پاکستان کا روشن مستقبل قومی اتحاد سے ہی وابستہ ہے (اداریہ)

پاکستان کا امن’ استحکام اور سلامتی قومی ترقی کے بنیادی ستون ہیں، دہشتگردی کا خاتمہ اور عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ارض پاک نے دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے جانوں کا نذرانہ دیا ہے تاکہ امن برقرار رہے اور شہریوں کو سکون’ امن اور خوشحالی میسر ہو۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ عزم کہ دہشت گرد جہاں بھی ہونگے، انہیں کچل دیا جائے گا، ملک میں پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے امن وسلامتی کے لیے ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جبکہ افواج پاکستان اور دیگر سکیورٹی اداروں کی کوششیں ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انہیں سکیورٹی کی صورتحال’ انسداد دہشتگردی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کورہیڈ کوارٹرز پشاور کا دورہ’ سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا جائزہ’ نیز فوجی دستوں کے بلند حوصلے اور پیشہ وارانہ تیاری کو سراہنا، اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مستعدی اور تسلسل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار واضح پیغام ہے کہ ریاست شہریوں کے تحفظ سے دست بردار نہیں ہو گی۔ یہ بات بھی قابل تحسین ہے کہ حکومت قومی کامیابی کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ پولیس’ محکمہ انسداد دہشت گردی’ سول انتظامیہ اور عدالتی نظام کی صلاحیت کو بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ پولیس اہلکاروں کو جدید آلات’ محفوظ مواصلاتی نظام’ بروقت معلومات’ مناسب تربیت اور مؤثر حفاظتی انتظامات کی بھی ضرورت ہے۔ جنوبی خیبرپختونخوا میں منشیات کے کھلے عام استعمال’ اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحے کے خلاف شہریوں کی اپیل بھی امن کے تصور کو وسیع کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر نوجوان نشے کی گرفت میں دکھائی دیں۔ منشیات فروش بلاخوف سرگرم رہیں اور غیر قانونی اسلحہ معاشرتی زندگی کو غیر محفوظ بنائے تو حکومت کو اپنی کارروائیوں مین تیزی لانا ہو گی۔ پرامن شہری زندگی کے لیے محفوظ بستیاں’ فعال تعلیمی ادارے’ بحال کاروبار’ بے خوف شہری اور قانون پر اعتماد بھی لازم ہے۔ شہداء کے لہو کا حقیقی حق یہی ہے کہ ان کی قربانیاں ایک ایسے پاکستان کی بنیاد بنیں جہاں بندوق کے بجائے قانون کی حکمرانی ہو، خوف کے بجائے امید پروان چڑھے اور خیبرپختونخوا کی وادیاں پھر سے امن’ روزگار اور خوشحالی کی علامت بن سکیں۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ قومی یکجہتی’ عوامی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ناگزیر ہے۔ دہشت گرد عناصر کی نقل وحرکت کی روک تھام’ ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور حساس مقامات کی حفاظت کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ ضروری ہے۔ پاکستان کا روشن مستقبل امن’ استحکام اور قومی اتحاد سے ہی وابستہ ہے۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ریاستی اداروں’ سیاسی قیادت’ عوام اور معاشرتی طبقات کو مشترکہ قومی مقصد کے تحت اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں’ سکیورٹی اداروں کی مربوط کوششوں اور عوام کے تعاون سے ملک کو مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ قانون کی بالادستی’ قومی یکجہتی اور ترقی کے تسلسل کے ذریعے پاکستان کو ایسا پُرامن ملک بنایا جا سکتا ہے جہاں شہری اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں جبکہ دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کی مضبوطی ہی پائیدار امن اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں