پاک افغان سرحدی علاقوں میں روسی اور نیٹو ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت

جنیوا /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) جنیوا میں قائم ادارے اسمال آرمز سروے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے تین برس سے زائد عرصے کے بعد بھی افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں نیٹو اور سوویت ہتھیاروں کی سمگلنگ اور غیر قانونی فروخت جاری ہے۔افغانستان میں اسلحے کی دستیابی کی دستاویزکے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021تک افغانستان کے پاس دو لاکھ 58 ہزار 300 رائفلیں تھیں، جن میں ایم4، ایم16 اور اے کے کی مختلف قسمیں 64ہزار، 300پستول، 63ہزارا سنائپر رائفلیں، 56ہزار 155ہلکی، درمیانی اور بھاری مشین گنیں، 31ہزار گرینیڈ لانچرز، نو ہزار 115شاٹ گنز، 60-82 ملی میٹر کے 1845راونڈز، نیز سیکڑوں ہزاروں اسلحے سے جڑا سامان اور گولہ بارود شامل تھے۔ دوسری طرف پاکستان نے دہشت گردوں کے ہتھیاروں کے حصول اور استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی قونصلر عاطف رضا نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیار موجود ہیں، ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان سے بلاروک ٹوک کارروائیاں کرتی ہے۔عاطف رضا کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہوں کو ہتھیاروں کی رسائی کو روکا جائے، دہشت گرد تنظیموں کو مخالف ملک کی بیرونی امداد اور مالی معاونت حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں