فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پنجاب پنشنرز ایسوسی ایشن کے کنوینئر محمد سلیم چوہدری نے6 مرلہ گھروں پر پراپرٹی ٹیکس میں 137.5 فیصد اضافہ اور30 ستمبر تک یکمشت ادائیگی پر5 فیصد ڈسکائونٹ دینے کی رعایت ختم کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس میں غیر معمولی اضافہ ناقابل برداشت ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے غریب عوام پر عائد ٹیکسوں میں مزید اضافہ کرنے سے محدود آمدن والے شہریوں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات ودیگر گھریلو استعمال کی سروسز مثلاً فراہمی ونکاسی آب’ بجلی’ گیس’ صفائی ستھرائی چارجز کی مد میں ہوشربا اضافہ اور روزمرہ ضروریات زندگی بشمول اشیاء خوردونوش کی مہنگے داموں خریداری نے پسماندہ طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کمر توڑ مہنگائی پر کنٹرول کر کے عوام کی زندگیوں کو پرسکون وآرام دہ بنانے والی پالیسیاں بنانے موجودہ حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہ ہے۔ آئے روز پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے مال برداری سمیت زرعی وصنعتی لاگت میں اضافہ ناگزیر ہے اور یہی اضافی لاگت صارفین کو مہنگائی کی صورت میں منتقل ہوتی ہے۔ گرانی کے عفریت کو بوتل میں بند رکھنے کیلئے انہوں نے حکومت کو تجویز کیا ہے کہ عوام کو فوری ریلیف کے ساتھ ایسی منظم’ مربوط اور مؤثر معاشی حکمت عملی اختیار کی جائے جو پیداواری لاگت کم کرے، قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کے راستے کو روکے، عام آدمی کی حقیقی قوت خرید کو بحال کرنے میں ممد ومعاون ثابت ہو۔ اور ہر شہری کی آمدن واخراجات کے درمیان بڑے تضادات کو دور کر سکے۔ سلیم چوہدری نے یاد دلایا کہ 6مرلے کا گھر کسی سرمایہ دار کی جائیداد نہیں بلکہ عام طبقے کے خاندان کی زندگی بھر کی جمع پونجی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کمرتوڑ مہنگائی کا شکار محدود آمدن والا طبقہ پہلے ہی جسم وروح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے معاشی بحران کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ ایسے میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ ان کے لیے مزید مالی بوجھ کا باعث بنے گا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنے ریونیو میں اضافہ کرنے کے لیے معاشی طور پر پسماندہ طبقے کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے بااثر ٹیکس چوروں سے ٹیکس وصولی کو یقینی بنائے۔




