سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ اب بھی وقت ہے

پاکستان بنے ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ بانی پاکستان ہم سے جدا ہوگئے پاکستان بے سرور سامانی کے عالم میں ملا تھا کاش کہ قائد اعظم کچھ عرصہ زندہ رہتے ہمیں ہمارا تحفظ کردہ آئین دیتے، قانون کی بالا دستی ہوتی ہماری معیشت تجارت آئین پاکستان کی تابع ہوتی امیر غریب میں کوئی فرق نہ ہوتا ،سب اپنی اپنی جگہ ڈگر پر چل رہے ہوتے بیوروکریسی بے لگام نہ ہوتی ،ہماری آزادی یعنی پاکستان قائم کرنے میں بنگالیوں کا بڑا ہاتھ تھا ہمارے اس وقت کے سیاستدان اور اسکی بڑی مذ ہبی جماعتوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی پھر بنگلہ دیش، اس وقت کے ا یسٹ پاکستان نے ہمارے ساتھ محب وطن ہونے کا وہ ثبو ت دیا جو آج ہم ادا نہیں کر پا ر ہے ،ایسٹ پاکستان کو ایک دن ہم سے جدا ہونا تھاکیونکہ پاکستان اور ا یسٹ پاکستان میں کوئی خشکی یعنی زمینی رابطہ نہ تھا یاتو فضائی یا بحری جو ہمارے ازلی دشمن ہندوستان سے گزرتا تھا وہ جب چاہتا راستے بند کردیتا ، پاکستان بننے کے بعد ہمارے پاس کوئی فوج پولیس نہ ہی ملک چلانے کیلے بیوروکریٹس تھے پاکستان سے قبل انڈو پا ک ایسٹ کمپنی برطانیہ کے پاس نظام تھا اور وہ ہی ہم پر حکمرانی کررہے تھے ،ایس پی ،ڈپٹی کمشنر یوں کہہ لیجے کہ تمام ملکی نظام انگریزوں کے ہاتھ میں تھا ہم نے جو کچھ ان سے سیکھا وہ آج بھی ہم کاٹ رہے ہیں ،آئین ہمیں ذوالفقار بھٹو نے دیا اس میں بتایا گیا کہ ملک کو کس طرح چلایا جائے پہلی دفعہ ذوالفقار بھٹو نے غریب عوام کو بتلایا کہ بیوروکریٹس آپ کے حاکم نہیں بلکہ یہ آپ کے خاد م ہیں ، انہوں نے پہلی دفعہ غریب کو شعور دیا کہ اگر ڈپٹی کمشنر ،ایس پی یا کوئی بھی محکمہ کا آفیسر آپ کی بات نہ سنے تو اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی جذبات کو منوائیں، یہ بات بیوروکریٹس کو ناگوار گزاری ان کی مجبوری تھی کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوے اس وقت کے وزیر اعظم کی بات کو سنے ،ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ایسا کام کیا کہ لوگ حیران وپریشان ہوگے ،انہوں نے اس وقت کے نامور وفاقی سیکرٹری کو جبری ریٹار کردیا اور نوکری سے فارغ کردیا جس وقت 22وفاقی سیکرٹریز کو فارغ کیا وہ انتہائی تجربہ کار ملک کی باگ ڈور چلانے والے سیکرٹری سمجھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا کہ ان کے بغیر یہ ملک چل نہیں سکتا لیکن ذوالفقار بھٹو ایک انتہائی ذہین شخص تھا انہوں نے انکو نکالنے کے بعد ملک کو ان سے بہتر طریقہ سے چلانے والے مل گے انہوں نے اسلامی ملکوں کی کانفرنس بنائی ان کی کاوشوں سے آج ہم ایٹمی طاقت بنے ہوئے کوئی مکار دشمن ہماری طرف میلی آنکھ نہیں اٹھا سکتا ملک وقوم کو متفقہ آئین ہی اس ملک کیلے ان کا تحفہ تھا ،آج ہم اس آئین کے ماتحت ملک کے اداروں کو چلارہے عدلیہ ، بیوروکریٹس ،فوج ،پولیس ،کارپوریشن ،کنٹونمنٹ بورڈ یہ سب آئین کے تابع ہیں حکمرانوں کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹس کے مزاج بھی بدلتے رہتے ،ان کے بعد حکمرانوں نے شوریٰ کا نظام لگانے کی کوشش کی یونین کونسلوں کے نظام کو آزمایا گیا، وارڈ کا چیئرمین چنائو کیا گیا وہ علاقہ کے کرتادھرتا ہوتا تھا ان کو خاکروب اور ماشکی دیئے گئے اس وقت سیوریج کا نظام نہ تھا نالیاں اور نالے ہوتے ،محلوں میں سرکاری پانی مہیاکیا گیا ،غریب لوگوں کی زندگی اچھی گزر رہی تھی ،نہ ٹیکس ،پانی ،ماشکی ،خاکروب ،کا کوئی بل نہ آتا تھا، پھر وقت نے پلٹا کھایا مشرف دور میں لوکل باڈی کا قانون یکسا ں بدل دیا گیا، بیورور کر یٹس کو ذلیل کرنے کے لے نومنتخب ضلع، تحصیل ناظم بنا دیئے گئے، ڈپٹی کمشنر کو ان کا سیکرٹری بنادیا ،پولیس کو پہلے سے زیادہ طاقت ور بنادیا ،مجسٹریٹی نظام ختم کرکے اختیار عدلیہ کو دے دیے ، پولیس آج بھی انگریز دور کی طرح طاقتور رہی ہے، انگریزو ں نے پولیس کو اپنے اقتدارکو طویل دینے کیلئے انتہای دہشت کی علامت بناکر طاقتور بنادیا ،یہ نظام بھی کامیاب نہ ہوسکا ،کمشنر ڈپٹی کمشنر تو واپس آگے لیکن مجسٹریٹی نظام بدستور معطل ہے، پولیس کو موجودہ حکمرانوں نے پہلے سے زیادہ طاقت ور کر دیا، کچھ کام پولیس اچھے کررہی تھی اب محکمہ پولیس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس طرح لوکل باڈی میں اصلاح کی گئی، کارپوریشن اور کنٹونمنٹ بورڈ کو لامحدود اختیار دے دیئے گئے، تجاوزات کا خاتمہ سرفہرست ہے اس کیلئے بیورورکریٹس کے کنٹرول ہے پیرا فورس بنائی جواز یہ بنایا کہ پولیس بروقت ان کے حکم پر موقع پر نہیں آتی موجودہ حکومت نے غریب کیلئے ایک حکم صادر فرمایا کہ اوپن دی ڈور غریب کو خوشخبری دی کہ آپ کو اب دفاتر میں بلاروک ٹوک آسکے کوئی آفیسر دفتری ٹام میں میٹنگ نہیں کرے گا ،غریب عوام کے دکھ درد پہلے پھر دفتر کے کام ،کارپوریشن سرگودھا کے سی ای او جوکہ کنٹونمنٹ بورڈ سے دس گنا مسائل سے بھرا پڑا ان کے دفتر صبح 8بجے سے 4بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ اوپن ڈور پالیسی کے حکم کی دھجیاں بکھیری جاری ہیں میں نے پہلے بھی اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ان کو چند صحافیوں اورساتھیو ںسے فرصت نہیں وہ ہر وقت ٹائوٹوں اور خوشامدیوں میں گھیرے رہتے ہیں باہر نائب قاصد وہ ان سے ایک ہاتھ آگے ہے۔ ارسلان حیدر ہاشمی سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ سے کنٹونمنٹ بورڈ کی کارکردگی پوچھ لو تو جواب آتا سیکرٹری سے مل لیں ان کو دفتر امور سے کوئی دلچسپی نہ ہے بس جب بھی جائو تو میٹنگ میٹنگ کا کھیل کھیل رہے ہوتے ہیں، ارسلان حیدر ہاشمی آپ اپنے دروازے اوپن کریں ، باہر بیٹھے نائب قاصدوں سے جان چھڑائیں ورنہ آپکو سرگودھا کی تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں