لاہور (بیوروچیف) لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق قومی خزانے کو مبینہ طور پر 68کروڑ روپے کے نقصان کے معاملے پر باقاعدہ انکوا ئر ی شروع کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق لیسکو نے مارک اپ کی مد میں ہونے والے نقصان کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی نے شعبہ فنانس سے گزشتہ چار سال کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے 2021 سے 2025تک لیسکو ایمپلائز پنشن فنڈ سے متعلق تمام دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے لیسکو ایمپلائز پنشن فنڈ کے نام سے بینک اکانٹ کھولنے کی منظوری سے متعلق ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق مختلف بینکوں سے منافع کی شرح یا کوٹیشنز طلب کرنے کے لیے جاری کیے گئے خطوط، فنڈز کی مدتِ سرمایہ کاری، موصول ہونے والی کوٹیشنز اور ان کے تقابلی جائزوں کا ریکارڈ بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔تحقیقاتی کمیٹی نے تقابلی گوشوارے تیار کرنے والے افسران کے نام، عہدے اور ابتدائی سفارش سے لے کر حتمی منظوری دینے والے تمام متعلقہ افسران کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں ,اس کے علاوہ سرمایہ کاری کی منظوری دینے اور بینکاری معاملات نمٹانے والے پنشن سیکشن کے افسران کے نام بھی مانگے گئے ہیں ۔تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔




