کان کے راستے گھٹنوں کے درد کا نیا علاج دریافت

ٹیکساس (مانیٹرنگ ڈیسک) یونیورسٹی آف ٹیکساس کی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کان کے ذریعے ویگس رگ کی غیر جراحی برقی تحریک گھٹنے کے درد کو کم کرنے میں موثر اور محفوظ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ درد ہڈیوں کے بھربھرے پن کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس تحقیق میں ویگس رگ کی برقی تحریک (tVNS) کا استعمال پہلی بار گھٹنے کے درد کے علاج میں کیا گیا۔ اس تکنیک میں برقی رو کو کان کے پیچھے جلد کے راستے اعصاب تک پہنچایا جاتا ہے جو پہلے بد ہضمی، درد اور بڑھاپے کی رفتار کو کم کرنے کے لیے آزمایا جا چکا ہے۔ویگس رگ انسانی جسم کے پیراسمپتھیٹک اعصابی نظام کا اہم جزو ہے جو جسم میں آرام دہ حالت پیدا کرتا ہے اور درد کے احساس کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی آف ٹیکساس میں فزیکل تھراپی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوساکو اویاجی نے بتایا کہ گھٹنے کے درد میں مبتلا مریضوں کے ساتھ تجربات نے انہیں اس علاج پر تحقیق کرنے کی تحریک دی۔ڈاکٹر اویاجی نے اس علاج کے نتائج کو حوصلہ افزا اور بامعنی قرار دیا۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ گھٹنے کے درد کے شکار مریضوں میں اسمپتھیٹک اور پیراسمپتھیٹک اعصابی نظام میں توازن کا فقدان ہوتا ہے جو درد کا باعث بن سکتا ہے۔ویگس رگ کی تحریک کے ذریعے یہ توازن بحال کرنے میں مدد ملی جس سے درد کی شدت میں کمی آئی۔تحقیق میں شریک ایک تہائی سے زائد افراد نے گھٹنے کے درد میں نمایاں کمی محسوس کی اور کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔چونکہ یہ علاج براہ راست گھٹنے پر نہیں کیا گیا اس لیے محققین کا خیال ہے کہ یہ بہتری اعصابی نظام کی فعالیت اور درد کے مرکزی نظام پر اثر کی وجہ سے ہوئی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج مزید تفصیلی اور بڑے پیمانے پر تحقیق کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں تاکہ ویگس رگ کی برقی تحریک کو ایک مثر اور محفوظ علاج کے طور پر اپنانا ممکن ہو سکے۔ وہ مستقبل میں مزید تحقیق کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس میں کنٹرول گروپ اور مختلف نمونوں پر تفصیلی تجربات کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں