اسلام آباد (بیورو چیف)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 32 کے تحت کارروائی کیلئے محکمہ کسٹمز پر یہ لازم ہے کہ وہ جان بوجھ کر غلط ڈیکلریشن، جھوٹی دستاویزا ت یا دھوکہ دہی ثابت کرے ، قانون کی غلط تشریح سے متعلق معاملات میں مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد جاری کیا گیا شوکاز نوٹس موثر نہیں رہتا۔ سپر یم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کیلئے منظور شدہ تحریر ی تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میان گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کسٹمز سے متعلق دو الگ مقدمات کا فیصلہ سنایا۔پہلے مقدمے میں ڈائریکٹور یٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ، کسٹم ہائوس لاہور نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی ۔ محکمہ کسٹمز کا موقف تھا کہ 2010 سے 2012 کے دوران ریشمی کپڑے کی درآمد میں ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کی گئی، تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صرف یہ ثابت ہونا کہ درآمدی مال کی ظاہر کردہ قیمت دیگر درآمدی کھیپوں سے کم تھی، دفعہ 32 کے تحت کارروائی کے لیے کافی نہیں۔ عدالت نے کہا کہ محکمہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ درآمد کنندہ نے جان بوجھ کر غلط ڈیکلریشن، جھوٹا بیان یا جعلی دستاویزات جمع کرائے تھے۔عدالت نے قرار دیا کہ ٹربیونل اور لاہور ہائی کورٹ کے حقائق پر مبنی نتائج قانون کے مطابق ہیں۔




