معاشی اصلاحات پر خوش آئند پیشرفت (اداریہ)

کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار اس کی مضبوط معیشت پر ہوتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی’ بیروزگاری’ تجارتی خسارے اور دیگر مشکلات کا سامنا رہا، تاہم معاشی اصلاحات برآمدات میں اضافے’ سرمایہ کاری کے فروغ اور مالیاتی نظم وضبط کے باعث معیشت بتدریج استحکام کی راہ پر گامزن دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ مثبت اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو ملک معاشی ترقی کی نئی منزلیں حاصل کر سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور رواں سال ملک میں معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہو گا۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے ٹیکس نظام میں جاری اصلاحات اور بہتری کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ انہوں نے کاروباری برادری کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور کہا کہ اسے پیداوار بڑھانے اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا جائے گا۔ حکومت کا حتمی مقصد کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا’ سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیکس کے نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھ سکے۔ اگر کاروباری اعتماد کی بات کی جائے تو گزشتہ ماہ جاری کردہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کے مطابق پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نو فیصد کمی آئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی’ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ’ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور پالیسی غیر یقینی وہ عوامل ہیں جن کے سبب سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ برآمدات کی بات کریں تو گزشتہ مالی سال برآمدات کا حجم 30.13 ارب ڈالر رہا جو طے کردہ ہدف 35 ارب ڈالر کم رہا۔ مالی سال 25ء کی نسبت بھی برآمدات میں چھ فیصد گراوٹ آئی۔ گزشتہ مالی سال کے گیارہ ماہ کے دوران بیرون سرمایہ کاری میں 28.4 فیصد کمی آئی۔ 1999ء سے 2025ء تک’ پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم دو ارب ڈالر کے لگ بھگ رہا ہے، جو 400ارب ڈالر سے بڑی معیشت اور 25کروڑ آبادی والے ملک کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگرچہ ترسیلات زر بڑھنے سے ملکی معیشت کو مضبوط سہارا فراہم کیا اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ سرپلس رہا۔ سات برسوں میں ترسیلات زر تقریباً دگنی ہو چکی ہیں مگر اسی عرصے کے دوران برآمدات تیس ارب ڈالر کے قریب جمود کا شکار ہیں۔ پائیدار ترقی درآمدات وبرآمدات میں توازن’ شفاف ٹیکس نظام’ صنعت کاری وسرمایہ کاری کے فروغ اور آسان کاروبار میں پنہاں ہے۔ قومی معیشت میں نمو کی صلاحیت سے انکار نہیں مگر اس کے لیے جس تندہی کی ضرورت ہے وہ اب نظر نہیں آئی۔ معاشی استحکام کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو شفاف پالیسیاں سرمایہ کاری کے مواقع اور روزگار کی فراہمی پر بھی توجہ دینی جاہیے جبکہ عوام کو ٹیکس کی ادائیگی’ محنت اور دیانت داری کو فروغ دینا چاہیے۔ باہمی تعاون اور مسلسل معاشی اصلاحات ہی پاکستان کو ایک مضبوط مستحکم اور خوشحال ملک بنا سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں