”اخبار فروش سے اخبار نویس تک”۔ جمیل اطہر قاضی کی یادگار تخلیق

اخبار فروش سے اخبار نویس تک’ نامور صحافی جمیل اطہر قاضی (تمغہ امتیاز) کی یادگار تخلیق ہے، یہ کتاب علم وادب’ تحقیق اور جستجو کا حسین امتزاج ہے جو ماضی کی یادوں کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ حال کو سنوارنے اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے، نامور صحافی جمیل اطہر قاضی نے اس کتاب میں اخبار فروش سے اخبار نویس تک کے سفر کو نہایت جامع اور متوازن انداز میں پیش کیا ہے جسے ان کی علمی بصیرت کا ایک درخشاں نمونہ کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا، یہ کتاب ایک عہد کی داستان ہے جس سے زندگی کے نشیب وفراز کا بھرپور جوانمردی سے مقابلہ کرنے کا درس بھی ملتا ہے۔ اس کتاب میں محترم جمیل اطہر قاضی ”میری کہانی” کے عنوان سے رقمطراز ہیں کہ صحافت میں آنے اور یہاں تک پہنچنے کی ایک طویل کہانی ہے، جب عملی زندگی کا آغاز کیا تو والد صاحب نے اخبار بیچنے پر لگا دیا، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے گلی محلوں’ ریلوے سٹیشن’ بسوں کے اڈے پر اخبار فروخت کرتا رہا، روزنامہ ”آفاق” لائلپور (فیصل آباد) میں سب سے پہلے باقاعدہ ملازمت حاصل کی تھی جس کے پہلے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ضیاء الاسلام انصاری تھے، ان کے بعد مصطفی صادق اس کے ایڈیٹر بنے، انہی کے ساتھ اشتراک میں روزنامہ آفاق کی ملازمت چھوڑ کر ہفت روزہ وفاق کا اجراء کیا، معروف صحافی جمیل اطہر قاضی کا عزم وہمت دیکھئے کہ انہوں نے اخبار فروش سے کیسے ہفت روزہ وفاق تک کا سفر کامیابی سے طے کیا، میری کہانی میں وہ مزید لکھتے ہیں کہ میں اخبار فروخت کرتے کرتے اخبار کا نامہ نگار اور پھر سب ایڈیٹر بنا، کبھی ایک لمحے کے لیے بھی یہ افسوس نہیں ہوا کہ میں غلط پیشے میں آ گیا ہوں، جب بھی بارہ سولہ گھنٹے اخبار میں کام کرنے کے بعد اخبار کے دفتر سے نکلتے تھے تو اس احساس کے ساتھ نکلتے تھے کہ کچھ کر کے نکلے ہیں، ان کی یہ بات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اگر انسان اپنے مقصد میں لگن کے ساتھ محنت کرے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے، انہوں نے مزید لکھا ہے کہ جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مشکلات اور آزمائشوں کی ایک لمبی کہانی ہے، بھوک بھی دیکھی اور کبھی کبھی مایوسی بھی پیچھا کرتی رہی لیکن یہ توفیق ملی کہ پیشے کی اعلیٰ اقدار کو تھامے رکھا، جو آزمائش کسی عشق اور مقصد سے وابستہ ہو جاتی ہے، اس کی لذت ہی کچھ اور ہے اور جو اوپر والا دیتا ہے، اس پر راضی رہنا ہوتا ہے، ماشاء اﷲ کیا خوبصورت درس کس قدر خوبصورت انداز میں دیا جا رہا ہے کہ انسان کو ہمیشہ اعلیٰ اقدار کی پاسداری کرنی چاہیے’ اپنے کام کو اپنا مقصد بنا کر عشق جیسے جذبہ سے سرانجام دینا چاہیے اور اﷲ تعالیٰ کی عطاء پر راضی رہنا چاہیے’ نامور صحافی جمیل اطہر قاضی نے اس درس میں اپنی کامیابیوں کا راز بھی بتا دیا ہے، میری داستان کے عنوان سے بھی انہوں نے اپنی یادوں کو کچھ اس طرح تازہ کیا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں سے کم وبیش 69 سال کا عرصہ صحافت کی پُرخار وادی میں گزارا، عمر بھر اخبار نویسی کے سوا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں رہا، کافی عرصہ سے یہ خیال تھا کہ اپنی زندگی کے نشیب وفراز کو سپرد قلم کر دوں مگر فرصت میسر آئی تو اور نہ حالات نے اجازت دی، جمیل اطہر قاضی نے ”اخبار فروش سے اخبار نویس تک” میں تحریر کیا ہے کہ میری پہلی کتاب ”شیخ سرہند” تھی جو امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کی زندگی اور تعلیمات پر مبنی تھی، اس کتاب کو دینی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی، اس کے بعد دوسری کتاب ”ایک عہد کی سرگزشت” کے نام سے شائع ہوئی جس میں ان اصحاب کا تذکرہ تھا جن کی زندگی کے مختلف گوشوں نے مجھے متاثر کیا، اس کتاب میں اگرچہ میری اپنی داستاں کے کچھ حصے بھی کسی نہ کسی شکل میں شامل ہو گئے تھے مگر ایک مربوط خودنوشت کی کمی بہرحال موجود رہی، اب ”اخبار فروش سے اخبار نویس تک” کے نام سے اپنی کہانی بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، یہ تلخ وشیریں داستاں ہے، مگر جو کچھ پیش آتا رہا اسے پوری دیانت داری کے ساتھ من وعن بیان کر دیا ہے۔ ”اخبار فروش سے اخبار نویس تک” پڑھ کر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ محنت’ مستقل مزاجی اور لگن کے ساتھ کام کرنا کامیابی کا بہترین ذریعہ ہے، جو لوگ اپنی زندگی میں اسے اپنا اصول بنا لیتے ہیں انہیں یہ اصول اپنے مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرنیکا حوصلہ بھی فراہم کرتا ہے، محنت’ لگن اور جہد مسلسل ہی کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، کامیاب انسان وہ ہے جو ہر قسم کے حالات اور صورتحال میں بہتر فیصلے کر کے اپنے اور ملک وقوم کے لیے کامیابی کا باعث ہو، عظیم لوگ اپنی ناکامیوں میں کامیابی کی راہ تلاش کر لیتے ہیں اور آنیوالی نسلوں کیلئے مشعل راہ بن جاتے ہیں،محترم جمیل اطہر قاضی نے اپنی کتاب میں ان نامور صحافیوں کا تذکرہ بھی کیا ہے، جن کے ساتھ ان کا گہرا رابطہ رہا، وہ رقمطراز ہیں کہ میں ”ڈیلی بزنس رپورٹ” میں کام کرنے کیلئے چوہدری شاہ محمد عزیز سے ملنے ان کی کوٹھی پر گیا اور اس اخبار میں کام شروع کر دیا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ پچاس کے عشرے میں لائلپور (اب فیصل آباد) کے افق صحافت جو چار ستارے بڑی آب وتاب سے جگمگا رہے تھے ان میں چوہدری شاہ محمد عزیز’ ریاست علی آزاد’ خلیق قریشی اور ناسخ سیفی شامل ہیں۔ بلاشبہ! صحافت معاشرے کی آنکھ اور ریاست کا چوتھا ستون ہے، صحافی قومی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو تو اس کے قلم سے لکھا گیا ہر لفظ اثر رکھتا ہے، صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق وصداقت کا علم سربلند رکھیں، صحافت پھولوں کی سیج نہیں بلکہ ایسی پرخاروادی ہے جہاں اس شعبہ سے وابستہ افراد کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ صحافیوں نے اپنے نیک مقاصد کے حصول کے لیے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، نامور صحافی جمیل اطہر قاضی نے ”ڈیلی بزنس رپورٹ” فیصل آباد کے بانی ثانی جناب عبدالرشید غازی سے متعلق اپنی کتاب ”اخبار فروش سے اخبار نویس تک” میں تحریر کیا ہے کہ عبدالرشید غازی نے اپنے زمانہ طالب علمی میں تحریک پاکستان میں سرگرمی سے حصہ لیا، مسلمانوں کے لیے آزاد فلاحی مملکت کے حصول میں وہ مسلسل کام کرتے رہے اور ان کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہیں آئی، جب وہ مسلم ہائی سکول طارق آباد میں نویں جماعت کے طالب علم تھے تو انہوں نے دفعہ144 کی خلاف ورزی کرتے نکالے گئے جلوس میں شرکت کی جس پر انہیں ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا اور ڈسٹرکٹ جیل میں نظربند رکھا گیا، 1943ء میں جب قائداعظم محمد علی جناح لائلپور تشریف لائے تو مسلم ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر نے بیس طلباء کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ریلوے اسٹیشن پر ان کی سکیورٹی کا فریضہ سرانجام دیں، جناب عبدالرشید غازی بھی ان طلباء میں شامل تھے، جنہوں نے قائداعظم کو سلامی دی اور ان سے ہاتھ ملانے کا شرف حاصل کیا، نامور صحافی جمیل اطہر قاضی نے اپنی یادگار تصاویر کو بھی اس کتاب کی زینت بنایا ہے، جو مختلف ادوار میں ہونیوالی تقریبات کی یادیں تازہ کرتی ہیں۔ ”اخبار فروش سے اخبار نویس تک” کو بک ہوم لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت 6000 روپے ہے، اس کتاب میں سیاست’ مذہب’ صحافت’ علم وادب صنعت وتجارت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ عظیم شخصیات اور ان کے کارناموں کے تذکرے نہایت احسن انداز میں کئے گئے ہیں جبکہ نامور صحافی جمیل اطہر قاضی نے اپنی داستان حیات جس احسن انداز میں تحریر کی وہ اپنی مثال آپ ہے’ ہر خاص وعام کو اس کتاب کا مطالعہ کر کے خوب استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں