گیس سیکٹر میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں،آڈیٹر جنرل نے پول کھول دیا

اسلام آباد (بیوروچیف) آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کی رپورٹ میں اہم سوالات اٹھا دئیے۔رپوررٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گیس رائلٹی میں عدم ریکوریز اورسبسڈی کا غلط استعمال کیا گیا،آر ایل این جی بیسڈانڈسٹریل یونٹ کو 11ارب 65کروڑ روپے کی اضافی سبسڈی دی گئی،او جی ڈی سی ایل نے ریفائنریز،گیس کمپنیز سے 635 ارب کی ریکوری نہیں کی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ریفائنریز اور گیس کمپنیز کی جانب سے عدم ادائیگی پر گردشی قرض بڑھا،ریفائنر، گیس اورپاور کمپنیوں میں تجارتی گردشی قرض 69 ارب روپے سے بڑھ گیا، 15ارب 96کروڑ روپے کے تیل و گیس کی رائلٹی کی ادائیگی کا ریکارڈ موجود ہی نہیں، خام تیل کے131،قدرتی گیس کے199لائنسز کے 34 رائلٹی چالان کا ریکارڈ ہی فراہم نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں