15سال تک کے بچوں کو پولیو قطرے پلانے کا فیصلہ

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے ملک میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے 15سال تک کے بچوں کو ویکسین دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ان بچوں میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے جو 5سال سے زیادہ عمر کے تھے۔وفاقی وزیر نے یہ انکشاف نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے وزارتِ صحت کے تحت متعدد اہم اصلاحاتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔مصطفی کمال نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں کراچی، پشاور، لاہور اور جنوبی خیبرپختونخوا کے علاقوں میں 15 سال تک کے بچوں کو انسداد پولیو مہم میں شامل کیا جائے گا۔ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے نئی ڈیڈ لائن دسمبر 2026رکھی گئی ہے۔انہوں نے ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے ایک اہم اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ 3 ماہ کے بعد ملک بھر میں فروخت ہونے والی ہر دوا پر بار کوڈ موجود ہوگا۔ شہری موبائل فون کے ذریعے ان بار کوڈز کو اسکین کر کے دوا کی اصل ہونے کی تصدیق، ایکسپائری کی تاریخ اور دیگر اہم معلومات حاصل کر سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بار کوڈ سسٹم کے نفاذ کے لیے حکومت مکمل تیار ہے، جبکہ دوا ساز صنعت نے اس پر عمل درآمد کے لیے تین ماہ کی مہلت مانگی ہے، جسے تسلیم کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت نئی قومی صحت پالیسی تیار کر رہی ہے جس میں بنیادی تبدیلیاں شامل ہوں گی۔ وزیراعظم جلد اس نئی پالیسی کی منظوری دیں گے۔ اس کے علاوہ، ڈریپ کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے، اور آئندہ ایک ہفتے میں وزیراعظم اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔مصطفی کمال نے بتایا کہ ان کی جانب سے مشروبات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ صحتِ عامہ کو بہتر بنایا جا سکے، تاہم حکومت نے اس تجویز کو منظور نہیں کیا۔نرسنگ کے شعبے میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نرسنگ کونسل کا پورا قانونی ڈھانچہ تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں 9 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے، جبکہ دنیا بھر میں 25 لاکھ نرسوں کی کمی ہے، جسے پورا کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے ملک میں بڑھتے دل کے امراض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیاکہ پاکستان میں ہر ایک منٹ میں ایک شخص ہارٹ اٹیک کے باعث زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں