فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) پشاور میں 37ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکا افسران کے 18رکنی گروپ نے مطالعاتی دورہ کے حوالے سے ایف ڈی اے کمپلیکس کا وزٹ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل قیصر عباس رند و دیگر افسران نے مہانوں کا استقبال کیا جن کی قیادت چیف انسٹرکٹر طار ق بختیار کر رہے تھے۔ بعدازاں افسران کے گروپ نے بریفنگ سیشن میں شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے مہمان افسران کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تنظیمی ڈھانچے، دائرہ اختیار، لیگل فریم ورک، کارکردگی، ترقیاتی سرگرمیوں اور شہری ترقی کے دیگر امور کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف ڈی اے کی سروسز کے معیار میں اضافہ، تیز رفتار ریلیف اور دفتری معاملات میں شفافیت کیلئے ریکارڈ کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے جس کی بدولت مختلف سروسز آن لائن فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں اونر شپ کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے موقع پر ہی اجرا، ای چالان سسٹم و دیگر سروسز شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہری ترقی کے متعدد منصوبے ایف ڈی اے کے کریڈٹ میں شامل ہیں جبکہ حال ہی میں عبداللہ جھمرہ روڈ فلائی اوور اور ایف ڈی اے سٹی میں سٹیٹ آف دی آرٹ سپورٹس کمپلیکس کے میگا پراجیکٹس مکمل کئے ہیں۔ انہوں نے ایف ڈی اے سٹی کی تیز رفتار ترقی کے حوالے سے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ وہاں عمدہ درجے کی تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے مضبوط انفراسٹریکچر موجود ہے جبکہ خوبصورت جھیل، میاواکی فاریسٹ و دیگر تفریحی سہولیات سے آراستہ 82کنال رقبہ پر سنٹرل پارک کی تزئین ترقی کا منصوبہ زیر عمل ہے۔ ڈی جی ایف ڈی اے نے بتایا کہ شہر میں سترہ رہائشی کالونیاں، اٹھارہ کمرشل مارکیٹس اور ایک سو گیارہ کچی آبادیوں کی جائیدادوں کا انتظام و انصرام ایف ڈی اے کے زیر کنٹرول ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی ہاسنگ سکیموں کے خلاف آپریشن تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور عوامی آگاہی کیلئے ایسی سکیموں کے بارے میں معلومات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز سکیم کے تحت ایف ڈی اے کی زیر نگرانی 32کروڑ بیس کروڑ روپے کے فنڈز سے 37میں سے 25سکیمیں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ شہری ترقی کیلئے آئندہ سٹرکوں اور پلوں کی تعمیر کیبعض ترقیاتی منصوبے بھی تجویز کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ون ونڈو کانٹر کی کارکردگی، نشاط آباد پل اور جھال پل کے زیریں حصوں کی تزئین و آرائش، جم اور سنوکر کلب کا قیام، شجرکاری تحریک، ایف ڈی اے کے ذرائع آمدن اور دستیاب بجٹ کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ ڈی جی ایف ڈی اے نے بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کی ماسٹر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے جبکہ پیری اربن سٹریکچر پلان بھی ایف ڈی اے کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہری علاقوں میں بلڈنگ کنٹرول کے اختیارات کلی طور پر ایف ڈی اے کے پاس نہ ہونے سے بعض مسائل درپیش ہیں۔ آخر میں چیف انسٹرکٹر نیپا طارق بختیار نے عمدہ مہان نوازی اور جامع بریفنگ پر ڈی جی ایف ڈی اے کا شکریہ ادا کیا اور کہا ایف ڈی اے کی ورکنگ سے متعلق ادارہ جاتی سروسز سے آگاہی اور انتظامی معلومات سے سیکھنے میں مدد ملی ہے۔ شرکا افسران نے ایف ڈی اے کی سروسز کو جدید تقاضوں کی مطابق بنانے سے متعلق اصلاحات کو سراہا۔ اس موقع پر ڈی جی ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری اور چیف انسٹرکٹر نیپا طارق بختیار کے مابین یادگاری شیلڈز کا تبادلہ بھی ہوا۔




