کم از کم 37ہزار ماہانہ اجرت پر عملدرآمد کرایا جائے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر عدم مساوات کے خلاف محاذ کے زیر اہتمام ملک گیر مظاہرے’ فیصل آباد ڈویژن میں 10لاکھ سے زائد صنعتی مزدور کام کرتے ہیں جن کی اکثریت پاور لوم ٹیکسٹائل ورکرز کی تعداد سوشل سکیورٹی سے محروم ہے ‘پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق اور , پاکستان لیبر قومی موومنٹ کیچیئرمین بابا لطیف انصاری’شیخ نثار ‘ملک ممتاز’رانا ریاض ‘شیخ خالد بھولا’ چوہدری یاسر جٹ’ فیض رسول بندیشہ’رانا شکیل’زین جٹ نے کہا ارب پتی منافع خوروں کو لگام دو ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم باہر نکل کر ان نقصان دہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کریں۔ ان کے فیصلے مہنگائی، بیروزگاری اور موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں عوام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان مسائل کے پیش نظر ورلڈ اکنامک فورم کیخلاف فائٹ انیکوئلٹی الائنس پاکستان جس کو ہم اردو عدم مساوات کے خلاف اتحاد کہتے ہیں پاکستان کسان رابطہ کمیٹی’پاکستان لیبر قومی موومنٹ کے ساتھ مل کر ملک کے 16 مختلف شہروں میں احتجاج کر رہا ہے۔ اس احتجاج کو Red Line Action ( خطرے کی حد یعنی بہت ہو چکا اب مزید برداشت نہیں کا نام دیا گیا ہے تاکہ ہم سرمایہ دارطبقہ استحصال کی حقیقت کو پہچانیں۔ کیونکہ اگر انہوں نے اپنے استحصالی طریقوں کو نہ روکا تو یہ نہ صرف انسانیت کے لیے بلکہ پورے کرہ عرض کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں۔ ارب پتیوں منافع خوروں کو لگام دیا جائے، محنت کشوں کا استحصال اور معاشی قتل بند کرو، سرمایہ داروں کو دی جانے والی ریاستی امداد بند کی جائے۔ کم از کم ماھانہ اجرت 37000 روپے پر عمل درآمد کرایا جائے۔سوشل سکیورٹی کارڈ ہر مزدور کا بنیادی حق اسے فوری جاری کیا جاے دریائے سندھ پر چھ کینال کی تعمیر بند کی جائے، کارپوریٹ فارمنگ ختم کی جائے، زمین چھوٹے اور بے زمین کسانوں میں تقسیم کرو، 2022 کے سیلاب متاثرین کو کم از کم دس لاکھ روپے مکان کی تعمیر کے لئے ادا کئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں