پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام ایک ایسی بند گلی میں داخل ہو چکا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ہم آج بھی اس نوآبادیاتی ڈھانچے سے چمٹے ہوئے ہیں جو لارڈ میکالے نے برصغیر میں ”کلرک”پیدا کرنے کے لیے وضع کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب برطانوی حکام سے اس تعلیمی نظام کے مقصد کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا موقف واضح تھا کہ یہ نظام صرف ایسے ذہن تیار کرے گا جو برطانوی راج کے لیے وفادار کلرک بن سکیں اور ان کا اپنا کوئی تخلیقی وجود نہ ہو۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آزادی کے پونے اسی سال گزرنے کے باوجود ہم نے اس 100سالہ پرانے اور فرسودہ نظام میں کوئی ایسی انقلابی تبدیلی نہیں کی جو ہمیں جدید دنیا کے ہم پلہ کھڑا کر سکے۔ اگرچہ ملک میں گنتی کے چند تعلیمی ادا رے جدید خطوط پر استوار پروگرامز فراہم کر رہے ہیں، لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جو کروڑوں کی آبادی والے ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کسی صورت کافی نہیں۔تعلیمی بوجھ کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب ایک ننھا بچہ، جس کا ذہن ابھی کائنات کے رنگوں کو سمجھنے کے مراحل میں ہوتا ہے، ڈھائی سے تین سال کی عمر میں بھاری بستوں کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔ جس عمر میں اسے کھیل کود اور مشاہدے کے ذریعے سیکھنا چاہیے، اس عمر میں اسے رٹے بازی کی ایسی مشین بنا دیا جاتا ہے جہاں تخلیقی سوچ کا گلا گھونٹ کر صرف نمبروں کی دوڑ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ایک کمزور ذہن کا بچہ اس غیر ضروری بوجھ تلے دب کر اپنی قدرتی صلاحیتیں کھو دیتا ہے۔ اس کے بعد میٹرک، انٹر اور پھر چار سالہ ڈگری کا طویل سفر شروع ہوتا ہے۔ ایک عام طالب علم کو پروفیشنل ڈگری حاصل کرتے کرتے 22سے 24سال کی عمر تک پہنچنا پڑتا ہے، اور اس دوران وہ صرف کتابی کیڑا بن کر رہ جاتا ہے جس کے پاس عملی مہارت (Practical Skills)نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ پاکستان میں روزگار کا حصول ڈگری کی بنیاد پر نہیں بلکہ”سفارش”اور”رشوت”کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ایک قابل اور ذہین طالب علم، جس کے پاس نہ تو سفارش کا سہارا ہے اور نہ ہی جیب میں رشوت دینے کے پیسے، وہ برسوں دفاتر کے چکر کاٹتا ہے لیکن اسے نوکری نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا تقریبا ہر پروفیشنل ڈگری ہولڈر ملک چھوڑنے کی تگ و دو میں ہے کیونکہ یہاں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بااثر افراد کے رشتہ داروں کو نوازا جاتا ہے۔ یہ مایوس کن صورتحال ”برین ڈرین”(Brain Drain)کا سبب بن رہی ہے، جس میں ہمارا بہترین ٹیلنٹ ملک کی خدمت کرنے کے بجائے بیرونِ ملک ہجرت کر نے پر مجبور ہے۔ اگر ہم نظام کی کارکرد گی کا جائز ہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی ادارے سال کے 365 دنوں میں سے بمشکل 160سے 170دن ہی فعال رہتے ہیں۔ چھٹیوں، ہڑتالوں، امتحانات کے وقفوں اور دیگر سماجی تعطیلات کی وجہ سے تدریسی عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں تعلیمی سال کم از کم 200سے 220دنوں پر محیط ہوتا ہے، مگر یہاں وقت کا زیاں ایک معمول بن چکا ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو بجٹ کی تقسیم ہے۔ پاکستان کا تعلیمی بجٹ جی ڈی پی (GDP)کا بمشکل 1.7سے 2فیصد ہے، جبکہ دفاعی بجٹ اس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے جو کہ ملک کی بقا کے لیے تو اہم سمجھا جاتا ہے لیکن تعلیم کو ہمیشہ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے دفاع سے زیادہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فن لینڈ، جنوبی کوریا اور سنگاپور جیسے ممالک اپنی جی ڈی پی کا 5سے 7فیصد تعلیم پر لگاتے ہیں۔ جب تک ریاست کی ترجیحات میں قلم اور کتاب کو اولین مقام نہیں ملے گا، تب تک ہم عالمی سطح پر مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔پاکستانی نظامِ تعلیم کی خامیاں بے شمار ہیں: نصاب کا جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا، اساتذہ کی تربیت کا فقدان، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں طبقاتی تقسیم، اور تحقیقی کلچر کی عدم موجودگی۔ ہم آج بھی وہی پرانا امتحانی نظام چلا رہے ہیں جو صرف یادداشت کا امتحان لیتا ہے، عقل اور سمجھ کا نہیں۔ اگر ہم نے فوری طور پر اس بوسیدہ نظام کی جراحت نہ کی اور میرٹ کی بحالی کے ساتھ ساتھ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح نہ بنایا، تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔




