زرعی مسائل سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے

فیصل آباد (سٹی رپورٹر) زرعی مسائل کی صورتحال سے نپٹنے اور غذائی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے اکیڈیمیا انڈسٹری تعلقات کو ٹھوس بنیادوںپر استوار کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خاں نے شعبہ انٹومالوجی زرعی یونیورسٹی، محکمہ پنجاب کے زرعی ماہرین اور انڈسٹری کے نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین شعبہ انٹومالوجی ڈاکٹر وسیم اکرم، ایڈیشنل ڈی جی پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈ ہارون غنی، چیف سائنٹسٹ اینٹومولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ AARI ڈاکٹر قربان علی، نیاب فیصل آباد سے ڈاکٹر ساجد بھٹہ، ڈاکٹر نور عابد،انڈسٹری سے محمد عامر مجید، رشید احمد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر محمد سرور خاں نے کہا کہ زراعت کا شعبہ مختلف چیلنجز کا شکار ہے جن میں بیماریوں، کم پیداواری صلاحیت، پانی کی کمی، زمین کی صحت کی خرابی اور دیگر شامل ہیں۔ جس کے لیے ہمیں قومی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کو تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ڈاکٹر وسیم اکرم نے اکیڈمی اور انڈسٹری کے درمیان جامع اور بہتر فصل کے ماڈل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پوسٹ گریجویٹ تحقیق کو بہتر بنانے اور انڈر گریجویٹ/پوسٹ گریجویٹ نصاب/کورسز کی اپ گریڈیشن کے لیے ڈپارٹمنٹل بورڈ آف اسٹڈی ،شعبہ انٹومالوجی کے اراکین کے طور پر سرکاری اور نجی شعبوں کے نمائندوں کو شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ کراپ لائف پاکستان کے چیئرمین رشید احمد نے کسانوں کی ضروریات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے فیکلٹی، پرائیویٹ سیکٹر/صنعتوں اور اسٹیک ہولڈرز (کسانوں) کے درمیان باہمی تعامل اور ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیا۔ اجلاس میں شعبہ انٹومالوجی کے ڈاکٹر محمد احسن خاں، ڈاکٹر محمد حامد بشیر، ڈاکٹر زین العابدین، ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر محمد دلدار گوگی، ڈاکٹر راشد رسول خاں، ڈاکٹر محمد طیب، ڈاکٹر بلال سعید خاں، ڈاکٹر جام نذیر احمد، ڈاکٹر محمد صغیر، ڈاکٹر شاہد مجید، ڈاکٹر عابد علی، ڈاکٹر محمد سفیان، ڈاکٹر عمیر سیال، ڈاکٹر وسیم عباس و دیگر بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں