محکمہ تعلیم میں بدعنوانی پر34پرنسپلز کو عہدوں سے فارغ کردیا گیا

منڈی صادق گنج(نامہ نگار)محکمہ تعلیم میں کرپشن 34 پرنسپلز عہدوں سے فارغ’ منڈی صادق گنج کے دونوں بڑے سرکاری تعلیمی اداروں کے پرنسپلز محمد لطیف اور شگفتہ یاسمین بھی شامل ‘2024کے آخری دنوں میں محکمہ تعلیم بہاول نگر میں 50کروڑ کی کرپشن کے بڑے سکینڈل کے چرچے عام ہوئے سیکرٹری سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کے بعد وزیراعلی پنجاب اور نیب ملتان بھی حرکت میں آئے گئے 20 دسمبر کو نیب ملتان کی جانب سے جاری کردہ لیٹر میں 24-2023 کے نان سیلری بجٹ سمیت دیگر فنانشل ریکارڈ طلب کیا گیا جبکہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایات پر سیکرٹری سکول ایجوکیشن کی جانب 28دسمبر کو جاری کردہ لیٹر کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی میں عرفان احمد سندھو سیکرٹری ریگولیشن کو کنوئنر اور خالد محمود سیکرٹری ایڈیشنل سیکرٹری ریگولیشن فنانس کو ممبر مقرر کیا گیا ہے 50 کروڑ روپے کی ایڈیشنل گرانٹ میں کرپشن پر سابق سی ای او ایجوکیشن شاہدہ حفیظ سمیت ضلع کے دیگر 127سکولز کے سربراہان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے منڈی صادق گنج کے دونوں بڑے تعلیمی اداروں کے سربراہان گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل عبدالطیف پر 3612584 روپے اور گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول کی پرنسپل شگفتی یاسمین پر 3576296 روپے کے فنڈز میں کرپشن کے الزامات عائد کئے گئے ہیں 20 جنوری 2025 کو سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ لیٹر کے مطابق منڈی صادق گنج کے دونوں سرکاری تعلیمی اداروں گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل عبدالطیف اور گورنمنٹ گرلز ہائر سکینڈری سکول کی پرنسپل شگفتہ یاسمین سمیت ضلع بہاول نگر کے 34 سکول پرنسپلز کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر سیکرٹری ایجوکیشن دفتر لاہور پابندی کے احکامات جاری کئے گئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں