پیکا ایکٹ کیخلاف فیصل آباد پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کا مشترکہ احتجاج

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)فیصل آباد پریس کلب کے زیر اہتمام پیکا ایکٹ کی منظوری کے خلاف ایک تاریخی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں فیصل آباد کی تمام صحافتی تنظیموں نے متحد ہو کر آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔احتجاج کی قیادت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکر) کے سیکرٹری جنرل اور صدر پریس کلب شاہد علی نے کی، جبکہ مختلف صحافتی تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے۔اس مظاہرے میں ندیم جاوید (صدر ایف یو جے برنا)، میں منور اقبال (سابق نائب صدر پریس کلب اور سینئر صحافی)، مقبول احمد لودھی، جوانٹ سیکرٹری پریس کلب ندیم جاودانی، صدر نیشنل جرنلسٹس ایسوسی ایشن میں ندیم، کالم نگار رانا زاہد اقبال، پاکستان ویمن جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن ہماء کاظمی ، صدر شہناز محمود، سینئر نائب صدر منیبہ فاطمہ، چیف آرگنائزر افشاں بتول، جوائنٹ سیکرٹری پریس کلب اورنگزیب ملک، ایگزیکٹو ممبران ارشد انصاری، رانا حنا جمیل، نادر حسین مان، ڈاکٹر سعید طاہر سمیت متعدد صحافیوں نے شرکت کی اور اس کالے قانون کے خلاف آواز بلند کی۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل شاہد علی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا،”پیکا ایکٹ آزادی صحافت پر ایک سنگین حملہ ہے، اور ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔یہ قانون نہ صرف صحافیوں کے حقوق کو دبانے کی کوشش ہے بلکہ عوام کی آزادی اظہار پر بھی قدغن لگاتا ہے۔صحافی اس ملک کی آواز ہیں، اور اس آواز کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ایسے قوانین سے صحافیوں کو خاموش کیا جا سکتا ہے، تو وہ اپنی خام خیالی کو ترک کرے۔ہم کسی قیمت پر اپنی آزادی کا سودا نہیں کریں گے۔”ندیم جاوید نے کہا،”پیکا ایکٹ جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے۔یہ قانون حکومت کے خوف اور کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ہم کسی بھی صورت میں اس قانون کو قبول نہیں کریں گے اور آزادی صحافت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری اورنگزیب ملک نے کہا،”یہ قانون حکومت کی بدنیتی کا عکاس ہے۔آزادی اظہار پر پابندی لگا کر حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ہم اس ظلم کے خلاف پوری قوت سے کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔”میں منور اقبال نے کہا،”پیکا ایکٹ دراصل صحافیوں کی زبان بندی کی کوشش ہے۔لیکن ہم واضح کرتے ہیں کہ حکومت کا یہ حربہ ناکام ہوگا۔اگر یہ قانون واپس نہ لیا گیا تو شہر بھر میں احتجاجی تحریک کو مزید شدت دی جائے گی، اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔”پاکستان ویمن جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی صدر شہناز محمود نے کہا،”پیکا ایکٹ خواتین صحافیوں کے لیے خاص طور پر زیادہ خطرناک ہے۔یہ قانون ہمیں پیشہ ورانہ امور میں رکاوٹ ڈالنے کا ذریعہ بنے گا۔ہم حکومت کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اس کالے قانون کو فورا واپس لے، ورنہ خواتین صحافی بھی احتجاجی تحریک میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔”مقبول احمد لودھی نے کہا،”یہ قانون نہ صرف صحافیوں بلکہ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ہم اپنی قلم کی طاقت سے اس قانون کو ناکام بنائیں گے اور آزادی صحافت کی جنگ جاری رکھیں گے۔”احتجاج کے دوران صحافی رہنماں نے حکومت کو واضح پیغام دیا کہ اگر یہ قانون فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو مظاہروں کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے، اور اس پر حملہ کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔یہ احتجاج فیصل آباد کی صحافتی برادری کی طاقت اور یکجہتی کا مظہر تھا، اور اس میں شامل ہر رہنما نے حکومت کو یہ پیغام دیا کہ آزادی صحافت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں