ساہیوال میں پٹرول اور گیس کی کھلے عام فروخت

ساہیوال(بیوروچیف)ضلعی انتظامیہ کی کرپشن نے ساہیوال شہرکو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ گلی،محلوں، شہر کے خارجی اورداخلی راستوںپر قائم غیر قانونی تیل ایجنسیوں پر ڈیزل ، پٹرول اور گیس کی کھلے عام فروخت۔ رشوت خور عملہ کی موجیں، عوام کی زندگیا ں دائو پر لگ گئیں، انتظامیہ کی چشم پوشی۔شہر میں جگہ جگہ قائم پٹرول، ڈیزل اور گیس کی فروخت کے غیر قانونی کاروبار نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور املاک کو خطرے سے دو چار کر رکھا ہے۔ غیر قانونی تیل،ایجنسیوں کے خلاف کاروائی کا اختیار ڈی سی او کو حاصل ہے۔ صنعتی اداروں اور پٹرول پمپوں سمیت اہم اداروں میں آگ بجھانے والے آلات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے ذمہ دار محکمہ کو حاصل ہونے والے اختیارات نے ان کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کی بجائے ان کی آمدن میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گلی محلوں اور قریبی دیہات میں بغیر لائسنس تیل، پٹرول اور گیس بیچنے والے پٹرول پمپوں اور تیل ایجنسیوں کے علاوہ پرچون فروشوں،کریا نہ فروشوں اور کھوکھوں پر بھی پٹرول کی بوتلیں لٹکتی دکھا ئی دیتی ہیں۔ ساہیوال شہر کے مختلف علاقوںریلوے روڈ، باہر والا اڈا، کوٹ خادم علی شاہ ، بھٹونگر اور گردونواح میں کافی دوکانوں پر یہ غیر قانونی دھندہ چل رہا ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ساہیوال کے عوامی ، سماجی اور صحافتی حلقوں نے کمشنر ساہیوال اور ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر قانونی پٹرول پمپوں اور تیل ایجنسیوں کوفوری طور پر بند کر کے ان کے مالکان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور جو سرکاری ملازمین ان پٹرول پمپوں اور تیل ایجنسیوں کے مالکان سے بھتہ وصول کرتے ہیں ان کرپٹ عناصر کے خلاف بھی سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور ان کو نوکری سے فارغ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں