بجلی کی تقسیم کار منافع بخش کمپنیوں کی نجکاری نہ کی جائے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) محکمہ بجلی کے کارکنوں نے آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے زیر اہتمام ملک بھر میں ”یوم مطالبات”منایا۔ فیصل آباد، سرگودھا، میانوالی، بھکر، جھنگ، ٹوبہ، چینوٹ، خوشاب میں احتجاج اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔ ہر ضلع میں مقررین نے وزیر اعظم پاکستان سے پر زور مطالبہ کیا کہ پاکستانی قوم اور ساڑھے پانچ کروڑ صارفین کے مفاد میں بجلی کی منافع بخش کمپنیاں فیصل آباد، اسلام آباد، گوجر انوالہ کی نجکاری نہ کی جائے۔ اس وقت بجلی کی نجی کمپنیاں محکمہ بجلی واپڈا کو 50 روپے فی یونٹ دے رہی ہیں جبکہ واپڈا صرف 50. 5 روپے فی یونٹ بجلی مہیا کر رہا ہے۔ کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں محکمہ بجلی کی کمپنیوں کی نجکاری روک دیں۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے دبنگ لیڈر چوہدری سر فراز احمد ہندل ریجنل چیئر مین سی بی اے یونین فیسکو نے کہا کہ محکمہ بجلی میں 2016 کے بعد بھرتی نہیں کی جارہی۔ ملک بھر میں 50 عملہ منظور شدہ یارڈ سٹک کے مطابق بھی نہ ہے مگر سٹاف کم ہونے کے باوجو د کار کن ملک بھر میں بجلی کی سپلائی بحال رکھے ہوئے ہیں۔ دیرینہ تجربہ کار سٹاف کو اپنی جانوں پر کھیل کر کام کرنا پڑ رہا ہے جبکہ سینئر ملازمین کی ریٹائر منٹ سے کام کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے اگر حکومت نے کارکنوں کے جائز مطالبات حل نہ کروائے تو مز دور اسلام آباد میں دھرنا دینے کے لیے مجبور ہوں گے۔ دوران خطاب چوہدری سرفراز احمد ہندل ریجنل چیئر مین سی بی اے یونین فیسکو نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ کام پر اپنی جان کی حفاظت کریں اور غیر محفوظ حالات کار میں کام سے انکار کر دیں۔ جان لیوا حادثات سے بچا کے لیے یونین آپ کا تحفظ کرے گی۔ مزید بر آں فیسکو اتھارٹی سے چوہدری سر فراز احمد ہندل نے محبت بھرے لفظوں میں مطالبات کیے جن میں ALM ڈپلومہ ہولڈرز کی پروموشن بطور LS-II، جی ایس اوسٹاف کے لیے ڈینجرس الانس و دیگر پروموشن و اپ گریڈیشن پر عمل درآمد کر وانے کا مطالبہ کیا، بکٹ کرین سمیت معیاری ٹی اینڈ پی دیے جانے کا مطالبہ کیا ، ٹی اے ٹی اے، آف ڈے ویجز اوور ٹائم ۔ سینپ الانس، میں آف ورک، میڈیکل بلز تمام واجبات کی ادائیگی بر وقت اور فراخ دلی سے ملازمین کو دینے کا مطالبہ کیا کیونکہ ایک ملازم پانچ آدمیوں کا کام کر رہا ہے ۔ عید الفطر پر 2 عدد بونس ہر صورت کمپنی کے تمام ملازمین و آفیسر ز کو بغیر کسی شرط کے دیے جانے کا مطالبہ کیا حکومت وقت کو یہ بھی باور کروایا کہ فیسکو کمپنی محترم جناب عزت مآب چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر پنوں صاحب کی قیادت میں فیسکو کمپنی 31 دسمبر 24 تک تقریبا 50 ارب روپے منافع پر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فیسکو کمپنی کوسٹاف دے، مراعات دے اور اپنے مزدور اور آفیسر ز پر اعتبار کرے۔ ریکوری کے لیے پنجاب پولیس کو تحصیلدار صاحبان کو سٹاف کے ساتھ متحرک کیا جائے تاکہ ڈیڈ رقم کی ریکوری مکمل کی جائے۔ پولیس اور ایف آئی اے کی مدد سے بجلی چوری پکڑنے والی ٹیموں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ملازمین کے خلاف جھوٹی شکایات بغیر حقیقت پر مبنی انکوائری کسی قسم کا ایکشن نہ لیا جائے تو انشا اللہ فیسکو جو پہلے ہی محترم عامر بنوں صاحب چیف ایگزیکٹو آفیسر فیسکو کی قیادت میں نمبر 1 – ریکوری 100 فیصد لاسز Continuity Supply 100%, Under one digit فیسکو کمپنی کے صارفین بہترین صارفین ہیں، فیسکو صنعتی کمپنی ہے۔ اللہ تعالی بد نظری سے بچائے۔ کمپنی کے صارفین، ملازمین ، آفیسر ران کو اپنی حفاظت میں رکھے انشا اللہ کمپنی کے ملازمین و آفیسر ران کمپنی کا رزلٹ بہتر سے بہتر دیں گے جس سے ملک ترقی کرے گا، صنعت کا پہیہ چلے گا۔ کمپنی دن دوگنی اور رات چگنی ترقی کرے گی۔ حکومت سے پر زور اپیل ہے کہ ہماری گزارشات پر سنجیدگی سے غور کریں اور نجکاری کی بجائے کمپنی میں اصلاحات پیدا کرنے کا بندوبست کریں۔ جس پر حکومت کے مشکور و ممنون ہو گے۔ پاکستان میں جس طرح سینٹر ز ، ایم این اے ، ایم پی اے اور حجز صاحبان کی تنخواہ بڑھائی گئیں ہیں۔ اسی طرح مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کی جائے۔ فیصل آباد کی طرح دوسرے اضلاع کی قیادت مقامی مین عہدیداران نے بھی اپنے ریجنل چیئر مین اور مرکزی قیادت کے ہر حکم پر تعمیل کرنے کا عہد کیا، شہدا محکمہ بجلی، افواج پاکستان و دیگر فور سز ، ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا خیر کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں