ویتنام کیساتھ دو طرفہ تجارتی حجم کو متوازن بنانے کی ضرورت ہے

فیصل آباد( سٹاف رپورٹر)کثیر الجہتی اصلاحات نے ویتنام کی معیشت کو بین الاقوامی مارکیٹ اور غیر ملکی تجارت کا اہم ترین حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ بات پاکستان میں ویتنام کے سفیر مسٹرپام این ٹان نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ 2024ء میں ویتنام کی برآمدات 405.5ارب جبکہ درآمدات 380.8ارب تک پہنچ چکی ہیں۔ اسی طرح ویتنام کا جی ڈی پی میں فی کس حصہ 470.0ڈالر ہے جبکہ 2024ء میں غیر ملکی سرمایہ کاری 25.35ارب ڈالر رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ویتنام نے 34ملکوں سے معاہدے کئے ہیں جن میں سے نو جامع سٹرٹیجک ایگریمنٹس۔ 11سٹرٹیجک پارٹنرز اور 14جامع پارٹنرز ہیںجبکہ مختلف ملکوں کے ساتھ9فری ٹریڈ ایگریمنٹ بھی کئے گئے ہیں ۔ پاکستا ن اور ویتنام کے حوالے سے انہوںنے بتایا کہ 2023ء میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم 750ملین ڈالر تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ویتنام کو اہم برآمدات میں مکئی۔ بنا ہوا کاٹن۔ فیبرکس اور لیدر شامل ہیں جبکہ پاکستان ویتنام سے الیکٹرانکس ایکوپمنٹس ، یارن، ربڑ اور چائے درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ویتنام کو گوشت، ادویات ، پھل اور سبزیوں کی برآمدات کے بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں