اگیتی کپاس کی کاشت کسانوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے

گوجرہ(نامہ نگار)گوجرہ کے نواحی علاقے مونگی بنگلہ میں اگیتی کپاس کی کاشت کے فروغ کے لیے کسان کنونشن کا انعقاد کیا گیا. ڈپٹی کمشنر نعیم سندھو، ایوب ریسرچ سینٹر سے ڈاکٹر جانزیب، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر نوشیر علی خان شریک ہوئے۔گوجرہ کے نواحی علاقے مونگی بنگلہ میں اگیتی کپاس کی کاشت کے فروغ کے لیے کسان کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نعیم سندھو، ایوب ریسرچ سینٹر سے ڈاکٹر جانزیب، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر نوشیر علی خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر گلزار شاہد نے کسانوں کو بریفنگ دی۔ 300 سے زائد کاشتکاروں نے کنونشن میں شرکت کی اور جدید زرعی تحقیق اور تکنیکوں پر آگاہی دی، ماہرین کا کہنا تھا کہ اگیتی کپاس کی کاشت کسانوں کے لیے فائدہ مند ہے، موسمی حالات سازگار ہیں۔جدید زرعی طریقے اپنا کر کپاس کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔کپاس کی بہتر پیداوار کے لیے حکومت پنجاب کسانوں کو معاونت فراہم کر رہی ہے۔کسان جدید تکنیکوں کو اپنائیں۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محمد نعیم سندھو نے کہا کہ 248 گ ب مالڑی تحصیل گوجرہ میں جو انہوں نے گزشتہ سال فصل کپاس کے وزٹ کیے تھے اور دیکھا تھا کہ یہاں بھی اب اللہ کے فضل و کرم سے 65 تا 70 من فی ایکڑ پیداوار عام کاشتکار لے رہے ہیں کو ایک بڑی کامیابی سے منسوب کیا اور انہوں نے بتایا کہ جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو اپنا کر اگیتی کاشت کے ذریعے کپاس کے کاشتکار کم خرچ سے 60 سے 70 من پیداوار لے سکتے ہیں۔ کاشکاروں کو چاہیے کہ وہ ریسرچ اداروں کے آئے ہوئے ماہرین کی رائے پر عمل کریں کیونکہ مونگی بنگلہ اور تحصیل گوجرہ کے کاشتکاران پہلے بھی اللہ کے فضل و کرم سے بڑی محنت، مشقت اور جدت کے ساتھ بہتر پیداوار لیتے ہیں لیکن بہتر سے بہترین کے سفر کی کوشش جاری رکھنی چاہیےـ انہوں نے اس یقین اور امید کا اظہار کیا کہ کاشکاران اپنی سابقہ روایات میں اور بہتری لائیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں