این ایف سی ایوارڈ’ مختلف تجاویز کا جائزہ (اداریہ)

پاکستان میں آبادی کے انتظام سے متعلق طویل عرصے سے جاری تعطل کا شکار قومی مکالمہ گزشتہ شب ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو گیا۔ ایک پروگرام میں ملک کی اہم ترین شخصیات ایک ساتھ جمع ہوئیں اور جس اتفاق رائے کے ساتھ انہوں نے گفتگو کی اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں ہو گا۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر صحت وآبادی مصطفی کمال نے وفاقی حکومت کی نمائندگی کی۔ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح تقریباً 2.55 فیصد ہے جو عالمی اوسط سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے، یہ شرح ناقابل برداشت ہے اور معیشت’ صحت’ تعلیم’ روزگار’ آبی وسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت سمیت قومی زندگی کے ہر شعبے پر شدید دبائو ڈال رہی ہے۔ ماہرین نے تیز رفتار اور بے قابو آبادی میں اضافے کو ایسا عنصر قرار دیا جو دیگر تمام بحرانوں کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ وفاقی وزیر صحت وآبادی مصطفی کمال نے نہایت دوٹوک انداز میں آبادی کے انتظام کو ”پاکستان کی بقا کا ہدف” قرار دیا۔ ہر گھنٹے بعد ایک ماں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت 82فیصد وسائل صرف آبادی کی بنیاد پر تقسیم کرنا ایک ایسا نظام ہے جو آبادی میں کمی کے بجائے اضافے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ”بطور ملک، بطور معاشرہ” ہمیں بدلنا ہو گا۔ علماء کرام کا بھی کہنا ہے کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ اسلامی تعلیمات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ قرآن مجید میں مائوں کو تیس ماہ تک بچوں کو دودھ پلانے کی تلقین کی گئی ہے۔ جو قدرتی طور پر بچوں کی پیدائش میں وقفہ پیدا کرتی ہے اور ماں کی صحت کے تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے۔ وزیرصحت پنجاب عمران نذیر نے پنجاب حکومت کے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے احتیاطی صحت اور علاج کو الگ کیا ہے، مانع حمل ادویات کی بڑے پیمانے پر خریداری کی جا رہی ہے اور صحت کی سہولتوں کو گھر گھر پہنچانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ آبادی میں استحکام کے لیے سب سے مؤثر طویل المدتی حل لڑکیوں کی تعلیم’ کم عمری کی شادیوں میں کمی اور خواتین کو قومی معاشی زندگی میں فعال کردار دینے میں پوشیدہ ہے۔ آبادی میں اضافہ اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو صرف 24 برس میں پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔ لڑکیوں کو اسکول اور کالج تک تعلیم دلانا ہی وہ سادہ مگر طاقتور فارمولا ہے جو شادیوں میں تاخیر’ خواتین کو بااختیار بنانے اور آبادی میں استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔ موجودہ این ایف سی ایوارڈ میں تقریباً 82 فیصد وزن آبادی کی بنیاد پر رکھا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبوں کو زیادہ آبادی رکھنے پر مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ان حالات میں ہو سکتا ہے کہ آبادی پر کنٹرول پر زیادہ توجہ نہ دی گئی مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ آبادی میں اضافے سے پیدا ہونیوالے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں