بانی PTIسے پارٹی رہنمائوں کی ملاقاتیں

راولپنڈی (بیورو چیف) القادر ٹرسٹ کے نام پر 190 ملین پاؤنڈ کے مالیاتی سکینڈل میں سزا یافتہ اور جی ایچ کیو حملہ کیس سمیت مختلف مقدمات میں اڈیالہ جیل میں بند تحریک انصاف کے سابق چیئرمین سے عید الفطر کے موقع پر پارٹی رہنماؤں نے جیل میں ان سے ملاقات کی تاہم ملاقاتوں کی فہرست متنازع ہونے پر جیل انتظامیہ نے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، نیازاللہ نیازی اور بیرسٹر شعیب شاہین کو ملاقات سے روک دیا جبکہ اعظم سواتی، نادیہ خٹک، مبشر اعوان، تابش ایڈووکیٹ اور انصر کیانی کو ملاقات کی اجازت دی گئی جس پر سلمان اکرم راجہ نے جیل عملے سے کہا انکی دی ہوئی فہرست کے مطابق صرف اعظم سواتی کو ملاقات کیلئے بھیجا گیا اگر نمبر پورے کرنے ہیں تو ملاقات کیلئے کوئی نہیں جائے گا، اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے تابش ایڈووکیٹ اور انصر کیانی کو ملاقات کیلئے جانے سے روک دیا قبل ازیں بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر شعیب شاہین، اعظم خان سواتی، ایڈووکیٹ انصر کیانی، ایڈووکیٹ مبشر اعوان، ایڈووکیٹ تابش اور نادیہ خٹک جب سابق چیئرمین سے ملاقات کے لئے پہنچے تو جیل حکام نے صرف اعظم خان سواتی، نادیہ خٹک، مبشر اعوان، انصر کیانی اور تابش ایڈووکیٹ کو ملاقات کی اجازت دے دی جس پر بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے جیل کے داخلی دروازے پر جیل عملے کے ساتھ تکرار کرتے ہوئے کہا کہ انکی دی ہوئی فہرست کے مطابق کیوں لوگوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی عدالت کا حکم ہے ہم جو نام دینگے انہی لوگوں کو ملاقات کی اجازت دی جائے جس پر جیل عملے کا موقف تھا کہ جن لوگوں کے نام پہلے لکھوائے گئے ہیں انہی کا نام پہلے جاتا ہے لہٰذا آپ انتظار کریں جس پر سلمان اکرم راجہ کی جیل عملے کے ساتھ دو مرتبہ تکرار اور تلخ کلامی ہوئی کہ صرف ان لوگوں کو ملاقات کیلئے اندر بھیجا جائے جن کے نام وہ دینگے، سلمان اکرم راجا نے تابش ایڈووکیٹ اور ایڈووکیٹ انصر کیانی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے جانے سے روک دیا، سلمان اکرم راجہ کی دی ہوئی فہرست کے مطابق ملاقات کی اجازت نہ دینے پر سابق چیئرمین کے ترجمان نیازاللہ نیازی نے کہا وہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرینگے۔ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں سابق چیئرمین کے ترجمان نیاز اللہ خان نیازی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ کے حکم پر ہم ملاقات کے لئے آئے لیکن سابق چیئرمین سے بہنوں کی ملاقات میں لیت و لعل سے کام لیا گیا انہیں عید کے دن بھی ملاقات نہیں کروائی گئی عید کا روز تھا ہم جب بھی ملاقات کے لئے آتے ہیں ہمیں کہا جاتا ہے انتظار کریں حالانکہ ہم اس سے ملنے آتے ہیں جو پوری قوم کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کے جو حالات ہیں سابق چیئرمین نے 8 فروری کو ثابت کردیا کہ عوام اسکے ساتھ ہیں موجودہ حالات میں سابق چیئرمین کا جیل سے باہر آنا بہت ضروری ہے جو ملک کے حالات تقاضا کر رہے ہیں جہاں تک مل کے بیٹھنے کا معاملہ ہے تو اس قوم کی قیادت کی صلاحیت صرف سابق چیئرمین میں ہے اور وہی ریاست کو بچا سکتے ہیں کے پی اور بلوچستان کے حالات سابق چیئرمین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ عوام کو انکے حقوق دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اگر ریاست انکار کرتی ہے تو پھر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جبکہ اعظم سواتی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سابق چیئرمین نے کہا کہ کے پی کے اینٹی کرپشن کمیٹی کی فائنڈنگز پر سپیکر کے پی اسمبلی کو فوری استعفی دینا چاہئے، انہوں نے ہدایت کی ہے کہ مانسہرہ پارٹی صدر اور جنرل سیکرٹری کے خلاف ایکشن لے کر پارٹی سے باہر نکالا جائے انہوں نے کہا کہ میری دیگر دو لوگوں کے ہمراہ سابق چیئرمین سے ملاقات ہوئی ہے ہم نے سابق چیئرمین کو بتایا ہے کہ سلمان اکرم راجہ آپ کا سودا نہیں کرینگے مانسہرہ کے پارٹی عہدیداران سردار خان اور اکرام اللہ پر کرپشن کے چارجز کے باوجود انہیں عہدے دیئے گئے ہیں میں نے سابق چیئرمین کو مانسہرہ کی کرپشن کے معاملات بارے بتایا اور کہا کہ کمیٹی کے معاملات سامنے لائے جائیں جس پر سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے تو سپیکر کے پی اسمبلی کو مستعفی ہوجانا چاہئے جبکہ جنید اکبر کے بارے بھی سابق چیئرمین کو بتایا ہے جس پر سابق چیئرمین نے کہا ہے ان کی جانب سے کی گئی تعیناتیوں کو فوری واپس کیا جائے اسی طرح پنجاب کے معاملات پر بھی سابق چیئرمین کو بتایا ہے کہ عالیہ حمزہ کا راستہ روکا جارہا ہے اعظم سواتی نے کہا ہم نے سابق چیئرمین کو ہر صورت جیل سے نکالنا ہے علی امین گنڈا پور کرپشن کے معاملات پر خاموش نہیں بیٹھے اور علی امین گنڈا کی اجازت سے ہی میں سابق چیئرمین سے ملنے آیا ہوں انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین نے پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو پیغام بھجوایا کہ مانسہرہ ضلعی پارٹی صدر اور سیکرٹری جنرل کو فوری عہدے سے ہٹا کر پارٹی سے نکالا جائے۔#/s#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں