روس کی طرح امریکہ سے بھی گندم امپورٹ کر سکتے ہیں

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر جو 27 فیصد ٹیرف لگایا ہے اس سے دو طرفہ تجارتی تعلقات میں تیزی اور درآمدات ، برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی امریکہ کی جانب سے پاکستان پر بہت کم ٹیرف لگنے سے دنیا کو بھی حیرانگی ہوئی ہے کیونکہ پاکستان کے برعکس چائنا پر 57 فیصد، بنگلہ دیش پر 37فیصد اور ویت نام پر اس سے بھی کہیں زیادہ ہے جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی ایکسپورٹ میں ہمارا مقابلہ بنگلہ دیش اور ویت نام سے ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے کم ٹیرف لگائے جانے کے بعد ہم قدرے بہتر پوزیشن میں ا سکتے ہیں کیونکہ چین پر زیادہ ٹیرف لگنے سے چائنا کی ایکسپورٹ متاثر ہونے کا امکان ہے لہٰذا ہمارے لئے چین سے ایکسپورٹ بڑھانے کا سنہری موقع ہے موجودہ صورتحال کے تناظر میں ضروری ہے کہ موجودہ حکومت ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ذمہ دار لوگوں پر مشتمل ٹیم کو امریکہ بھجوائے جو فوری طور پر زیرو ٹیرف پر مذاکرات کر کے معاہدہ کرے رانا زاہد توصیف نے مزید کہا کہ ہم امریکہ سے ہماری درآمدبہت کم ہے ہم امریکہ سے تقریباً 1بلین ڈالرز کی کاٹن وغیرہ امپورٹ کرتے ہیں کچھ مشینری بھی درآمد کی جاتی ہے گذشتہ برس کسانوں کو ان کی رقم نہ ملنے کے باعث امسال گندم کی پیداوار کم ہوئی ہے ہم روس کی طرح امریکہ سے بھی گندم امپورٹ کر سکتے ہیں اگر ہم مختلف آئٹمز پر زیرو ریٹڈ کامعاہدہ سائن کر لیتے ہیں تو امریکہ سے امپورٹ 3یا 4بلین ڈالرز تک ہو سکتی ہے مگردوسری جانب ہماری ایکسپورٹ کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جائیں گے ہم نہ صرف گارمنٹس ، فیرک، چاول، ٹیکسٹائلز سیکٹر سے متعلقہ مصنوعات بلکہ دیگر آئٹمز برآمد کر سکتے ہیں جس سے ملک کی معاشی ترقی کے مواقع بڑھیں گے، انہوں نے آخر میں کہا کہ امریکہ کی مارکیٹ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں 3ٹریلین ڈالر کی امپورٹ ہوتی ہے اس وقت جبکہ پاکستان میں متعدد ملیں بند پڑی ہیں اگر وہ چلتی ہیں تو لوگوں کو نہ صرف روزگار ملے گا بلکہ زرمبادلہ اور ریونیو بھی بڑھے گا، یہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے حکومت کو یہ سنہری موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں