فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیسکو افسران صارفین کیلئے وبال جان بن گئے’ لاکھوں روپے ماہانہ بجلی کے بل جمع کروانے والوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا’ کمپلینٹ سیل اور افسران صارفین کے فون سننا تک گوارا نہیں کرتے، جبکہ کمپلینٹ سیل کے فون اکثر مصروف ملتے ہیں’ کمپلینٹ کے اندراج کرنے والا فیسکو عملہ فون کا رسیور اتار کر موج مستیاں کرنے میں محو رہتے ہیں’ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ تفصیل کے مطابق فیسکو صارفین کو بجلی کی سروسز فراہمی کے ساتھ مزید کئی ٹیکسز کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپے بل وصول کرتی ہے۔ غریب اور محنت کش بڑی مشکل سے بھاری بھر کم بجلی کے بل جمع کروانے پر مجبور ہیں جبکہ معمولی آندھی یا بارش کی وجہ سے فیسکو کے اکثر فیڈر ٹرپ کر جاتے ہیں اور بجلی کی بندش کی وجہ سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کرنے والے فیسکو افسران صارفین کو ٹھنڈے کمروں میں براجمان رہتے ہیں اور گھروں میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں بجلی کے یونٹس مفت استعمال کرتے ہیں اور صارفین کو سروسز فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے صارف کی بجلی منقطع ہو جائے یا اسکو کوئی پریشانی ہو اور وہ فیسکو کی طرف سے کمپلینٹ سیل اور بجلی کے بلوں پر درج ایس ڈی او سمیت دیگر افسروں کے سرکاری نمبرز پر رابطہ کریں تو ان افسران کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں دیا جاتا ہے اور کئی مرتبہ کالیں کرنے کے باوجود فون اٹینڈ کرنا تک گوارا نہیں کرتے ہیں۔ ہزاروں اور لاکھوں روپے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو بے یارومددگار کر رکھا ہے اور شکایات کے اندراج کیلئے فیسکو دفاتر جانے والے صارفین کو شدید گرمی کے موسم میں کئی کئی چکر لگوائے جاتے ہیں اور صارفین کی شکایات اندراج کرنے والا عملہ بھی اکثر اوقات فون کا رسیور اٹھا کر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ ہزاروں اور لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کرنے والا فیسکو عملہ صارفین کے لیے وبال جان بن چکا ہے۔ فیسکو میں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ فیسکو افسران’ عملہ نے ملی بھگت سے نئے میٹرز لگوانے’ شکایات کے ازالہ کیلئے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں اور جو کوئی نذرانہ دے اس کا ہی کام کرتے ہیں۔ فیسکو صارفین نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف’ وزیر بجلی وپانی اویس لغاری’ چیئرمین فیسکو سمیت ارباب اختیار سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ فیسکو کے نااہل’ نکمے اور بددیانت افسران واہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔ نااہل اور کرپٹ عملہ کو نوکری سے فارغ کیا جائے۔




