اﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے عاشورہ محرم الحرام خیریت وعافیت کے ساتھ گزر گیا، جلوسوں ومجالس عزا کی سکیورٹی کیلئے مثالی انتظامات کئے گئے۔ محرم الحرام میں امن وامان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ جلوسوں کے روٹس کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے احسن انداز میں نگرانی کی گئی۔ امن وامان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے اس بار پہلے سے بھی زیادہ توجہ دی گئی جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ ایران جنگ میں پاکستان نے کامیابی سے ثالثی کا جو کردار ادا کیا ہے اس سے جنگ کے بادل چھٹ گئے اور عالمی برادری نے پاکستان کی کامیاب ثالثی پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہمارے دشمن کو یہ گوارا نہیں کہ ہم کامیابیاں وکامرانیاں حاصل کریں اور بھارت وافغانستان نے مملکت خداداد پاکستان کیخلاف سازشوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، اس لئے عاشورہ محرم الحرام کے دوران بھرپور سکیورٹی انتظامات کئے گئے اور فیصل آباد سمیت ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش رہی۔ عاشورہ محرم الحرام کے دوران جلوسوں ومجالس عزا کے پرامن انعقاد کا سہرا وفاقی وصوبائی حکومتوں’ افواج پاکستان’ انتظامی اداروں اور پولیس کے سر جاتا ہے جنہوں نے بہترین سکیورٹی انتظامات کئے اور عزاداروں کے تحفظ کیلئے فعال کردار ادا کیا۔ مجالس عزا اور جلوسوں کی سکیورٹی اور نگرانی کے لیے فول پروف انتظامات کئے گئے، جلوسوں کے روٹس پر میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی سبیلیں بھی لگائی گئیں۔ عزاداروں کو گرمی کی شدت سے بچانے کیلئے سموگ گنز کے ذریعے پانی کا چھڑکائو کرنا بھی خوش آئند ہے۔ اس حقیقت سے ہر کوئی آگاہ ہے کہ آج دنیا دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے بالخصوص مسلم امہ کو دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کا سامنا ہے جس کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادیں اورعالمی احتجاج بھی اثر پذیر نہیں ہو رہا ہے، وطن عزیز پاکستان کو بھی دہشت گردی کے چیلنجز درپیش ہیں اور ان حالات میں عاشورہ محرم الحرام خیریت وعافیت سے گزرنا بڑی کامیابی ہے، اس وقت ہمیں اتحاد ویکجہتی کی اشد ضرورت ہے، واقعہ کربلا صبر’ استقامت اور تسلیم ورضا کا درس دیتا ہے۔ بے شک! حق کا ساتھ دینا ہی انسانی زندگی کا عظیم شرف اور معراج ہے اور سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت امت مسلمہ کیلئے حوصلے’ عزم اور استقامت کا ایسا سرچشمہ ہے جو ہمیشہ چراغ راہ کا کام دیتا رہے گا۔ آپ محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے تھے اور جس ماحول میں آپ نے پرورش پائی اس سے پاکیزہ اور اچھے ماحول کا تصور بھی ممکن نہیں، چنانچہ آپ اخلاق’ اعمال’ صوم وصلوٰة’ صدقہ وخیرات’ امور خیر اور عبادت میں اپنی مثال آپ تھے، کائنات کی وسعتوں میں جب بھی حق وصداقت کے چراغوں کا تذکرہ ہو گا، جب بھی ایثار وقربانی کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی جائیگی تو نگاہ بصیرت سب سے پہلے کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار کی طرف اٹھے گی، جہاں نبوت کے گلشن کے حسین ترین پھولوں نے اپنے لہو سے دین اسلام کی آبیاری کی، عاشورہ محرم الحرام پر ہر لحاظ سے بہترین سکیورٹی انتظامات کئے گئے جس کے نتیجہ میں امن وامان کا قیام ممکن ہوسکا۔ علمائے کرام’ ذاکرین عظام اور امن کمیٹیوں کے ممبران نے بھی باہمی محبت واخوت’ رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے مثالی کردار ادا کیا۔ انشاء اﷲ ہم ہر موقع پر اسی طرح مل جل کر عملی اقدامات اٹھائیں گے اور ہر موقع پر ملک وقوم کے مفاد کو مدنظر رکھا جائیگا، بے شک! اس سے ہر میدان میں کامیابیاں وکامرانیاں ہمارا مقدر بنیں گی۔




