تباہی کا اعتراف،مودی حکومت مشکل میں پھنس گئی

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کے ساتھ 4روزہ جنگ میں 5طیاروں کی تباہی کے بھارتی اعتراف نے مودی حکومت کو اب مزید مشکل اور پیچیدہ صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔فضائی جنگ میں بدترین ہزیمت اور طیاروں کی تباہی کی شکل میں اربوں ڈالرز کے نقصان کے بعد اب بھارتی فوج کے ریٹائرڈ جرنیل اور سینئر دفاعی تجزیہ نگار مودی حکومت کیخلاف احتساب کرنے والے اپوزیشن کے ان سیاستدانوں کی صف میں کھڑے یہ سوال کرتے نظر آ رہے ہیں کہ بھارتی ایئرفورس کے طیارے کیوں گرے۔دوسری جانب کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دفاعی ناکامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کے لئیے کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر نئی کمیٹی بنائی جائے۔لکارجن کھڑگے نے کہا کہ پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے تاکہ قوم کو سچ بتایا جا سکے۔کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے جنگی صورتحال میں عوام کو لاعلم رکھا، اصل حقائق اب سامنے آ رہے ہیں۔ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ہمیں پاکستان کیخلاف لڑائی میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی پر سوال اٹھایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی بار بار جنگ بندی پر ثالثی کی بات بھارتی خودمختاری کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مودی صرف مسلح افواج کی بہادری کا کریڈٹ لیتے ہیں، مگر پالیسی فیصلوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جنگ بندی کی شرائط کیا ہیں؟ کب طے ہوئیں؟ عوام کو کیوں اندھیرے میں رکھا گیا؟ملکارجن کھڑگے کا کہنا تھا کہ 140 کروڑ بھارتی شہریوں کو سیزفائر معاہدے کی تفصیلات جاننے کا پورا حق ہے۔ کانگرس پارٹی آزاد کمیشن کے ذریعے دفاعی تیاریوں کے جائزے کا مطالبہ کرتی ہے۔انڈین نیشنل کانگریس کے چیئرمین برائے میڈیا اینڈ پبلکسٹی ڈپارٹمنٹ، پون کھیرا کا آپریشن سندور اور مودی کی ناکامی سے متعلق اہم بیان سامنے آیا ہے۔پون کھیرا نے کہا کہ آپ کی خارجہ پالیسی کہاں ہے؟ پاکستان تو عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کویت نے پاکستان پر ویزا پابندیاں ختم کر دیں، کولمبیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، پون کھیرا نے مودی سے سوال کیا کہ بتائیں کون سا ملک آج بھارت کے ساتھ کھڑا ہے؟انڈین نیشنل کانگریس کے چیئرمین برائے میڈیا کا کہنا تھا کہ بھارت کیلئے یہ افسوسناک لمحہ ہے کہ روس بھی اب پاکستان کے ساتھ معاہدے طہ کر رہا ہے۔پون کھیرا کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے قریبی دوست روس نے پاکستان کے ساتھ 2.6 بلین کے معاہدے پر رستخط کیے۔ آپریشن سندور کے بعد کویت ایران اور دیگر گلف ممالک بھی پاکستان کے ساتھ معاہدے طہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین اور روس، پاکستان کی ساتھ کھڑے ہیں اور امریکہ بھی بھارت کو دھمکا رہا ہے، یہ حقیقت ہے مودی کی خارجہ پالیسی کی۔پون کھیرا نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی خارجہ پالیسی یا ملکی سیکیورٹی پر سوال اٹھا تو غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی سفارتی اور خارجہ پالیسی پر سوال اٹھ رہے ہیں، جو کہ اٹھنے چاہیے۔دفاعی تجزیہ کار نے کہا کہ آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی سفارتی فتح، ہر ملک پاکستان سے معاہدے کر رہا ہے اور بھارت تنہائی کا شکار ہے، مودی اپنی ہر کوشش کے باوجود پاکستان کے ہاتھوں اپنی بدترین شکست کو چھپا نہیں سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں