اسلام آباد (بیوروچیف) تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح سے متعلق نئی تفصیلات جاری کردی گئی۔نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ 10فیصد تنخواہیں بڑھانے کے باعث پہلی سلیب میں ایک کے بجائے 2.5فیصد ٹیکس لگایا۔ اب تنخواہ دارکیلئے 6لاکھ سے 12لاکھ سالانہ آمدن 2.5فیصد ٹیکس ہوگا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ 12لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 11فیصد ٹیکس عائد ہوگا، 22لاکھ روپے سے 32لاکھ روپے آمدن پر 23فیصد ٹیکس عائد ہو گا، 22لاکھ روپے سے 32لاکھ روپے آمدن پر 23فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔راشد لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ 32لاکھ روپے سے 41لاکھ روپے آمدن پر 30فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ اب تنخواہ دارکیلئے سالانہ 41لاکھ سے زائد آمدن پر 35فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔چیئرمین ایف بی آر کے مطابق 12لاکھ آمدن والے 4لاکھ 31ہزار 206افراد 2.5فیصد انکم ٹیکس سلیب والے ہیں، 12لاکھ سے 22لاکھ آمدن والے 3لاکھ 87ہزار 345افراد 11فیصد انکم ٹیکس سلیب والے ہیں۔ 22لاکھ سے 32لاکھ آمدن والے 1 لاکھ 62ہزار 500افراد 23 فیصد انکم ٹیکس سلیب والے ہیں۔ملک میں 32 لاکھ سے 41 لاکھ آمدن والے 76 ہزار 486 افراد 30 فیصد انکم ٹیکس سلیب والے ہیں جبکہ سالانہ 41 لاکھ سے زائد آمدن والوں کی تعداد 1 لاکھ 58 ہزار 905 افراد 35 فیصد سلیب والے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر کمیٹی کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 701 ارب روپے ٹیکس اقدامات کئے گئے ہیں، بینکوں میں رکھی گئی رقم پرمنافع پر ٹیکس ریٹ 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔




