شہریوں کے قومی شناختی کارڈ زپر جعلی فنگر پرنٹس کے ذریعے سمیں جاری ہونے لگیں

راولپنڈی( بیو رو چیف )راولپنڈی کی رہائشی سندس جبین مرزا ایک ٹیلی کام کمپنی کی فرنچائز پر نئی سم حاصل کرنے گئیں تو انہیں یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر پہلے ہی پانچ موبائل سمیں رجسٹرڈ ہیں اور وہ مزید کوئی سم حاصل نہیں کر سکتیں۔دلچسپ اور تشویش ناک امر یہ تھا کہ سندس مرزا کو ان میں سے کسی سم کے بارے میں سرے سے کوئی علم ہی نہیں تھا۔انہوں نے جب ٹیلی نار پاکستان سے رجسٹریشن کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی تو ابتدائی طور پر کمپنی کی جانب سے تعاون میں ہچکچاہٹ دکھائی گئی۔بعد ازاں حاصل شدہ معلومات سے یہ انکشاف ہوا کہ ایک ہی دن میں محض 7منٹ کے وقفے سے ان کے نام پر دو سمیں رجسٹر ہوئی تھیں۔سندس مرزا کے قومی شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ پانچ میں سے تین سمیں ٹیلی نار کمپنی کی تھیں۔دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اِن میں سے پہلی سم 26 جون 2023 کو شام 6 بج کر 24 منٹ پر جاری کی گئی، جبکہ دوسری سم اسی دن شام 6 بج کر 31 منٹ پر نکلوائی گئی۔صرف سات منٹ کے وقفے سے جاری ہونیوالی یہ دونوں سمیں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کے اس اصول کی واضح خلاف ورزی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں