ماضی کے لا ئلپور موجودہ فیصل آباد کی لمحہ بہ لمحہ سفر کی کہانی

چٹا گانگ کے مشہور پان فروش چنن کی پان شاپ، لاہور بارے ایک بات زبان زد عام ہوچکی ہے جوکہ حقیقت میں فیصل آباد کے گرد و نواح کے دیہات میں گھنٹہ گھر بارے مشہور تھی جنہے گھنٹہ گھر نہیں تکیا او جمئیا ای نہی۔ آج بھی لائلپور کے بڑے بوڑھے بتاتے ہیں کہ یہ بات ہمارے دیہات میں اکثر کہی جاتی تھی اور پھر لوگ گھوڑا و بیل گاڑی پر بیٹھ کر جوق در جوق گھنٹہ گھر دیکھنے جاتے تھے۔ انگریز دور میں 1892 میں ساندل بار کے علاقے کو سیراب کرنے کیلئے دریائے چناب سے ایک نہر لوئر چناب نکالی گئی، پھر لوئر چناب سے مزید تین نہریں نکالی گئیں جن کے نام جھنگ برانچ (ج ب )، گوگیرہ برانچ (گ ب) اور رکھ برانچ (ر ب) ہیں۔ ان نہروں نے راوی اور چناب کے درمیانی خطے ساندل بار میں زرعی انقلاب برپا کردیا، پوری بار کے اندرونی علاقوں کو راجباہ اور کھالوں سے مربوط کرکے دنیا کا بہترین نظام آب پاشی وجود میں آیا۔ ساندل بار پنجاب کا ایک خطہ ہے، جو راوی اور چناب کے درمیان رچنا دوآب میں واقع ہے۔ یہ خطہ تقریباً 80کلومیٹر لمبائی (مغرب سے مشرق) اور 40کلومیٹر چوڑائی (شمال سے جنوب) پر مشتمل ہے۔ ”بار” مقامی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی گھنے جنگل کے ہیں جہاں آبپاشی کا نہری نظام دستیاب نہ ہو۔ یہ بار ساندل کے نام کی وجہ سے ”ساندل بار” کہلانے لگا۔ ساندل پنجابی رہنما دلا بھٹی کے دادا تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ساندل بار کی وجہ تسمیہ کے متعلق تین مختلف روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ دلا بھٹی کے دادا کا نام بجلی خان عرف ساندل تھا، دوسری شاہکوٹ کی پہاڑیوں کے ڈاکو سردار کا نام بھی ساندل تھا اور تیسری یہ کہ جنگل کے چوہڑوں کے سردار کا نام چوہڑ خان عر ف ساندل تھا۔ ان تین میں سے کسی ایک کے نام پر یہ علاقہ ساندل بار مشہور ہوا۔ ساندل بار اصل میں پنجابی قبائل کا ایک وسیع علاقہ تھا، جو ایک ہی ثقافت اور زبان استعمال کرتے تھے اور آپس میں رشتہ دار بھی تھے۔ اس بار کا زیادہ تر حصہ اس وقت ضلع جھنگ میں واقع تھا لیکن موجودہ دور میں ساندل بار میں اضلاع جھنگ، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، حافظ آباد اور شیخوپورہ کے کچھ حصے شامل ہیں۔ نہروں کا پانی ہر جگہ پہنچانے کے بعد ساندل بار کے جنگل کاٹ دئیے گئے (شیشم کے گھنے جنگلات کی لکڑی برطانیہ کی تزین و آرائش کے لیے یورپ بھیج دی گئی)، 2500 ایکٹر فی گائوں کے حساب سے گائوں (چک)آباد کئے گئے، ان گائوں کو نام کے علاوہ نہر کی مناسبت سے نمبر بھی الاٹ کئے گئے، بار کے تمام گائوں کا ایک ہی نقشہ اور ایک جتنا ہی رقبہ رکھا گیا، ایک مربع زمین پر آبادی اور باقی اس گائوں کا زرعی رقبہ تھا۔ ہر گائوں کا نظام چلانے کیلئے ایک نمبردار مقرر ہوا جو مسئلے مسائل حل کرتا تھا اور آبیانہ وصول کرتا تھا۔ ایک چوکی دار تھا جو امن و امان کو کنٹرول کرتا تھا ایک ٹائم کیپر مقرر ہوا جو سرکاری گھڑی کے مطابق کھیتوں کو دئیے جانے والے پانی کا حساب کتاب رکھتا تھا۔ ان کے علاوہ ہر گائوں میں زیل دار، سفید پوش بھی رکھے گئے۔ یہ سب لوگ علاقے کے پٹواری، جو پورے علاقے کی زمینوں کی ملکیت اور خریدو فروخت کا حساب رکھتا تھا، اور تھانیدار سے رابطے میں ہوتے تھے تاکہ انگریز سرکار کے خلاف کسی بھی سازش کرنے والے پر نظر رکھی جاسکے۔ 1857 کی جنگ آزادی میں کئی پنجابی خاندانوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اس لیے ساندل بار آباد کرنے کے دوران ان خاندانوں کو انعام کے طور پر وسیع رقبے الاٹ کئے گئے۔ ساندل بار کو آباد کرنے کیلئے مشرقی پنجاب کے اضلاع ہوشیار پور، جالندھر، لدھیانہ، امرتسر، فیروزپور، گرداس پور، سیالکوٹ کی تحصیل شکرگڑھ سے کسانوں کو مراعات دیکر یہاں آباد کیا گیا۔ زرعی پیداوار کو بڑی منڈیوں اور ملک کے دور دراز شہروں تک پہنچانے کیلئے سڑکوں و ریلوے کا نظام بنایا گیا۔ یہ سب کرنے کے ساتھ ساندل بارمیں ایک بڑا اور مرکزی شہر بسانے کا منصوبہ بنایا گیا جس کے تحت 1896 میں رکھ برانچ کے ایک گائوں چک نمبر 212ر ب میں نئے شہر کی بنیاد رکھی گئی، شہر کا نقشہ وقت کے مشہور انجینئر پوفن ینگ نے بنایا، سرگنگارام اس کے معاون انجینئر تھے۔ پوفن ینگ کو شہر کے بیچ زمین انعام میں دی گئی جس میں ایک گائوں ینگ والا آباد ہوا جہاں پوفن ینگ کے مزارعے رہتے تھے۔ بعد میں اسی گائوں کی زمین پر ایک زرعی کالج بنایا گیا، ینگ والا گائوں آج بھی زرعی یونیورسٹی کے اندر آباد ہے۔ سرگنگا رام کو بھی زمین دی گئی مگر انہوں نے لینے سے انکار کردیا۔ چک نمبر 212کے 110ایکٹر رقبے پر برطانوی جھنڈے یونین جیک کے ڈیزائن کے مطابق شہری تعمیرات کا آغاز ہوا، ایک مستطیل قطعہ زمین پر اسکے چاروں کونوں کو سیدھی لکیریں ملاتی ہیں، جہاں مستطیل کے مرکز اے لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں وہی شہر کا مرکز ہے، جہاں گھنٹہ گھر کے گرد ایک چھوٹا سا لان ہے، مستطیل سے جڑی یہ آٹھ لکیریں شہر کے آٹھ بازار ہیں ان سب بازاروں کو ایک لائن گول بازار کے نام سے آپس میں ملاتی ہے، مستطیل کے چاروں جانب سڑکیں بنا کر اسے سرکلر روڈ کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد پٹواری تحصیل دار بار کے ہر گائوں میں گئے اور کسانوں کو شہر میں دکان خریدنے کی دعوت دی گئی، آٹھ بازاروں کی زمین ایک روپے فی مرلہ کے حساب سے فروخت کی گئی تھی، کچھ کو تو زبردستی دکان خریدنے پر مجبور کیا گیا تاکہ شہر جلدی آباد ہوسکے۔ آٹھ بازاروں کے باہر کا علاقہ ویران تھا شہر سے باہر ایک اونچا ٹیلہ پکی ماڑی تھا جہاں چند کچے مکان تھے، شروع میں شہر کا نام پکی ماڑی ہی تجویز کیا گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ اس کے بعد نام بدل کر دریائے چناب کے زرعی رقبے کی وجہ سے چناب کالونی رکھا گیا، کچھ عرصہ بعد پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ سر جیمز لائل کے نام پر لائل پور رکھ دیا گیا۔ڈاکٹر بہاری لال کے بیٹے لالہ موہن لال نے 1897میں اپنے خرچے پر ریل بازار کے آخر میں قیصری دروازہ بنایا۔ اسکے باہر گمٹی بنوائی جوکہ کہ شہر کا سنگ بنیاد رکھنے کی عمارت ہے گمٹی کے اندر لکھا ہوا ہے برکت دریائے چنادی۔ گمٹی اصل میں یونین جیک جھنڈے کے اوپر والی کنوپی ہے۔ گمٹی سے ویٹرنری ہسپتال بالمقابل پولئس لائن تک سیدھی سڑک جھنڈے کا پول یعنی ڈنڈا ہے جس کے ساتھ آٹھ بازاروں کا شہر جڑا ہوا ہے۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں