چنیوٹ(نامہ نگار)ترجمان ضلعی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ موضع ساہمل میں دریائی کٹاو کا مسئلہ 2014کے سیلاب کے بعد شروع ہوا اور کئی گھر اور زرعی زمین اس کٹاو کا شکار ہو گئی،دریا کے رخ بدلنے کی وجہ سے دریا آبادی سے صرف 200فٹ دوری تک آ گیا۔ 2023میں وزیراعلی پنجاب کے حکم سے اس جگہ پر 6 حفاظتی سٹڈز کی تعمیر شروع کی گئی تاکہ دریا کے رخ کو آبادی سے دور کیا جا سکے۔یہ سکیم مکمل ہو چکی ہے اور ان حفاظتی سٹڈز نے کافی حد تک دریا کے بہاو کو آبادی سے دور کیا ہے لیکن مسئلہ مکمل طور پر حل نہ ہوا ہے۔محکمہ انہار کے ماہرین کے مطابق کسی جگہ پر بھی نئے تعمیر کئے گئے سٹڈز آہستہ آہستہ مٹی کی تہہ کے ذریعے دریا کا رخ موڑتے ہیں مزید برآں 20جولائی کو سٹڈ نمبر 5 اور 6 کے درمیا ن دوبارہ دریائی کٹاو شروع ہوا،مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر اس پر ردعمل دیا اور ایکسیویٹر کے ذریعے مٹی ڈال کر عارضی بچاو کا انتظام کیا گیااس مسئلہ کو سیکرٹری انہار،چیف انجینئر اور ایس ای کے علم میں لایا گیا جنہوں نے موقع کا دورہ کیا قانون کے مطابق دریا میں کسی قسم کا سٹرکچر ماہرین کی کمیٹی کی منظوری کے بغیر نہ بنایا جا سکتا ہیلہذا 23 اور 24جولائی کو محکمہ انہار کی ایکسپرٹ کمیٹی نے جگہ کا دورہ کیا۔ معاملہ ضلعی انتظامیہ نے ڈی جی پی ڈی ایم اے کے ساتھ بھی اٹھایا تاکہ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکیمحکمہ انہار کی ایکسپرٹ کمیٹی کی رپورٹ مرتب ہو رہی ہے۔




