لاہور(شوبز نیوز) فلمی دنیا کو گلوکاری کا نیا انداز اور بے شمار یاد گار گیت دینے والے محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے 45 برس بیت گئے مگر ان کی آواز آج بھی باذوق افراد کے کانوں میں رس گھول رہی ہے۔لاہور کے گلوکار نے لازوال گیت گائے اور 3 دہائیوں تک بھارتی فلم انڈسٹری پر راج کیا، اسی لئے انہیں شہنشاہ گلوکاری کہا گیا ،برصغیر کے مشہور گلوکار مدھر آواز کی بدولت آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔24 دسمبر 1924 کو پیدا ہونے والا یہ گلوکار داتا کی نگری کے معروف محلے بھاٹی گیٹ کی گلیوں میں پل کر جوان ہوا، وہ ہر روز شہر کے سب سے بڑے لارنس گارڈن جا کر اپنی سریلی آواز کا جادو جگاتے۔اس نوجوان کی مدھر آواز، جب فضا میں گونجتی تو لوگ اس کی جانب کھنچے چلے آتے، محمد رفیع نے اپنے آبائی محلے کے جن تھڑوں پر بیٹھ کر گلوکاری کے فن سیکھے، وہ آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں۔وہ 1941 میں سترہ برس کی عمر میں ممبئی گئے لیکن لاہور شہر کے درو دیوار پر اب تک ان کی یادوں کے نقش موجود ہیں، ممبئی کی فلم انڈسٹری کے لئے محمد رفیع کی آواز کسی نعمت سے کم نہ تھی، وقت کے نامور موسیقاروں نے ان کی آواز کو قدرت کا انمول عطیہ جان کر اپنی لازوال دھنوں میں ڈھالا۔فلم انمول گھڑی کے گانے سے کیریئر کا آغاز کیا اور پھر رفیع نے ساری زندگی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، یکے بعد دیگر کئی خوبصورت گیت رفیع کی پہچان بنے۔ اور کامیابی ان کے قدم چومنے لگی۔پچاس کی دہائی میں بھارت بھوشن ہوں، گرو دت ہوں یا دلیپ کمار، اسی طرح ساٹھ کی دہائی میں دھرمیندر ہوں، شمی کپور ہوں یا دیو آنند، یا پھر ستر کی دہائی میں جتیندر ہوں، رشی کپور ہوں یا امیتابھ بچن۔اداکار سنجیدہ ہو یا مزاحیہ، اگر آواز رفیع کی ہے تو فلمساز کا آدھا کام تو آسان ہوجاتا تھا، محمد رفیع کے گیت ایسے ہوتے تھے یوں لگتا کہ اداکار خود گا رہا ہو، اسی لئے انہیں شہنشاہ گلوکاری کہا گیا۔چھتیس ہزار گیتوں، غزلوں، بھجنوں، نعتوں اور ترانوں کو اپنی آواز سے سجانے والا محمد رفیع کروڑوں انسانوں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔




