اسلام آباد (بیوروچیف) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس کارروائی کے لیے نیا طریقہ کار جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد بلاجواز چھاپوں کا خاتمہ اور تجارتی برادری کا اعتماد بحال کرنا ہے۔نئے طریقہ کار کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 37A پر عمل درآمد کے لیے ایس ٹی جی او (STGO) جاری کر دیا گیا ہے۔کسی بھی تفتیش یا چھاپے سے قبل کمشنر ان لینڈ ریونیو کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔مزید کارروائی کی شروعات ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز کی منظوری سے مشروط کر دی گئی ہے۔ہر تحقیقاتی کارروائی سے پہلے کمشنر دو کاروباری نمائندوں سے مشاورت کرے گا۔یہ نمائندے متعلقہ چیمبرز آف کامرس اور تجارتی تنظیموں کی جانب سے نامزد کیے جائیں گے۔نمائندوں کی فہرست ایف بی آر اپنے ویب پورٹل پر جاری کرے گا۔ہر ریجن سے دو معیاری ٹیکس دہندگان منتخب کیے جائیں گے۔نامزدگی ٹیکس ادائیگی، برآمدات اور کمپلائنس کی بنیاد پر کی جائے گی۔ایک تجارتی تنظیم سے ایک ہی نمائندہ منتخب کیا جائے گا۔ایف پی سی سی آئی، پی بی سی، ایل سی سی آئی، اپٹما اور دیگر اہم تنظیمیں اس عمل کا حصہ ہوں گی۔نئی پالیسی لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد ، ملتان، کوئٹہ اور پشاور کے ریجنز پر لاگو ہوگی۔




