مویشی چوروں کا گروہ بچیانہ پولیس کی پہنچ سے باہر،مقدمات فائلوں کی نذر

جڑانوالہ(نامہ نگار)مویشی چوروں کا گروہ بچیانہ پولیس کی پہنچ سے باہر،کئی مقدمات فائلوں کی نذر،تفصیلات کے مطابق تھانہ بچیانہ کے علاقے میں مویشی چوروں کا ایک منظم گروہ غریب کسانوں اور محنت کشوں کیلئے وبال جان بن چکا ہے۔پولیس کی نااہلی اور عدم دلچسپی کے باعث اس گروہ کے حوصلے بلند ہیں اور آئے روز شہریوں کی قیمتی ملکیت چرا کر فرار ہو جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران گنگاپور روڈ پر مویشی چوری کی کم از کم پانچ بڑی وارداتیں رپورٹ ہوئیں جن میں لاکھوں روپے مالیت کے گائے،بیل اور بھینسیں چوری کی گئیں۔ان واقعات کے باوجود پولیس کسی ایک ملزم کو بھی گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رواں سال تھانہ بچیانہ کے مختلف علاقوں میں درجنوں وارداتیں رپورٹ ہوئیں لیکن ہر بار مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس تفتیش کو آگے بڑھانے کے بجائے فائل بند کر دیتی ہے۔گزشتہ رات بھی اسی گروہ نے ایک محنت کش کسان کے ڈیرے سے قیمتی بیل چرا لیا جس پر اہل خانہ غم و غصے کا شکار ہیں متاثرین نے الزام عائد کیا کہ مویشی چوروں کا یہ گروہ غریبوں کا مال و مویشی لوٹ کر آسانی سے نکل جاتا ہے، جبکہ پولیس صرف خانہ پری تک محدود ہے مقدمات کے مدعیوں کا کہنا ہے کہ وہ مہینوں سے تھانے کے چکر لگا رہے ہیں مگر انصاف ملنے کے بجائے ان کی درخواستیں اور ایف آئی آرز فائلوں کی گرد میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ “جب ملزمان کو پکڑا ہی نہیں جاتا تو ہم کہاں جائیں؟” متاثرہ کسانوں کا شکوہ۔اہل علاقہ نے کہا کہ مویشی چوروں کی وجہ سے دیہات میں خوف کی فضا قائم ہے، کسان رات کو جاگ کر پہرہ دینے پر مجبور ہیں لیکن اس کے باوجود چوروں کے منظم نیٹ ورک کے آگے بے بس ہیں۔ شہریوں نے سی پی او فیصل آباد اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے مویشی چور گروہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور غریبوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں