فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) دورحاضر میں غذائی عدم استحکام کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم امہ کو زرعی خوشحالی اور خودکفالت کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے مشترکہ کاوشیں عمل میں لانا ہوں گی۔ اس ضمن میں تنظیم برائے اسلامی تعاون(او آئی سی) کا رکن ممالک میں غذائی استحکام اور زرعی ترقی کے لئے دس سالہ سٹریٹیجک پلان سنگ میل ثابت ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے دوحہ میں او آئی سی کے منعقد ہونے والے اجلاس میں اس اسٹریٹیجک پلان پر آن لائن بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کو غذائی تحفظ، تجارتی توازن اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ رکن ممالک میں زرعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع فوڈ سیکیورٹی ایکو سسٹم وضع کیا گیا ہے۔ اس کے پانچ بنیادی بلاکس میں ماڈل سپورٹ سینٹرز، صنعتی ترقی، کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے استعداد کار میں اضافہ، وسائل کی دستیابی اور باہمی تجارتی فروغ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایکو سسٹم موسمیاتی اسمارٹ زراعت، تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کرتا ہے اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے زرعی انفراسٹرکچر کو مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد خود کفالت حاصل کرکے اور پائیدار فوڈ سسٹم، اقتصادی ترقی، صحت و غذائیت، اور سپلائی چین کے انحصار کو فروغ دے کر او آئی سی کے رکن ممالک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ زرعی خوراک کے نظام کی زرعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، فصلوں اور جانوروں کی پیداواری نظام میں مربوط طرز کی حوصلہ افزائی کرنے اور موسمیاتی اسمارٹ زراعت میں مدد کرے گا۔ یہ پیداوار، پروسیسنگ، اسٹوریج اور لاجسٹکس کو مؤثر بنا کر خوراک کے نقصانات اور ضیاع کو کم کرنے میں بھی مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے، قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال، پیداوار کے معیار، غذائی استحکام، او آئی سی ممالک میں سپلائی چین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کے لئے قانون سازی اور ریگولیٹری فریم ورک بھی تیار کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صنعتی ترقی اس منصوبے کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ پیکجنگ، پیداوار، موسمیاتی اسمارٹ زراعت، پانی کے انتظام، تربیتی پروگرام، اور کیڑوں پر قابو پانے کے انتظام کے لیے ماڈل سپورٹ سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔




