حکومت ٹیکس نظام کا فوری اور جامع جائزہ لے ،پاکستان بزنس فورم

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان بزنس فورم نے ملکی گروتھ ماڈل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاکستان بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمان نے کہا کہ ڈیبٹ ٹو جی ڈی پی 13 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی قرضے 80 ہزار 600 ارب اور مالیاتی خسارہ 7100 ارب روپے پر پہنچ چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ساری سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت پر اکٹھا ہونا ہوگا۔پاکستان بزنس فورم نے سوال کیا کہ میثاق معیشت پر دستخط کیوں نہیں کیے جا رہے اور اس میں تاخیر کی کیا وجوہات ہیں؟بزنس فورم کے مطابق اس وقت بزنس کمیونٹی 45 فیصد ٹیکس ریٹ کے نیچے دبی ہوئی ہے۔فورم نے کہا کہ کہ درحقیقت پاکستان میں ٹیکس ریٹ کی شرح امریکا اور برطانیہ سے بھی زیادہ ہے۔خواجہ محبوب الرحمان نے کہا کہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ٹیکس نظام کا فوری اور جامع جائزہ لے۔انہوں نے کہا کہ سپرٹیکس جیسے غیر یقینی اور غیر ضروری محصولات کو فوری ختم کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے زائد گزر گیا مگر زرعی ایمرجنسی کا کوئی اتا پتہ نہیں، تاحال زرعی ایمرجنسی کا اعلان ایک سیاسی اعلان نظر آرہا ہے ۔ پاکستان بزنس فورم نے مطالبہ کیا کہ انڈسٹری اور زراعت کو واپس وفاقی حکومت کے سپرد کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں