صفدرآباد(نامہ نگار)شہر کے بازاروں اور گلی محلے کی دکانوں پر دو نمبر ،غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے خوردونوش کی سر عام دھڑلے سے فروخت کا سلسلہ جاری ہے جسے کوئی سرکاری افسر آج تک ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ان دو نمبر اشیاء کے استعمال سے خاص طور بچے متاثر ہو رہے ہیں جو کہ قوم کا مستقبل ہوتے ہین لیکن دکانداروں کو بس پیسہ چاہئے ۔بچوں کی کسے فکر ہے۔آپ کسی بھی گلی میں چلے جائیں ،ہر دکان پر بچوں کے کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء آپ کو لٹکی ہوئی نظر آئیں گی۔ یہ دکاندار اتنے ڈھیٹ قسم کے لوگ ہیں لیکن کہ توبہ ہی بھلی۔کوئی سرکاری افسر کسی بھی گلی میں دکانوں پر نہیںجاتا ،لگتا ہے کہ گلی والی دکانیں شہر سے الگ ہیںیہی سوچ کر کوئی محکمہ بھی گلیوں کا رخ نہیںکرتا ۔عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کرونا کی وبا کے دنوںمیں بازار کی دکانوں پر چھاپہ پڑتا تھا جب کہ گلی کی دکان کھلی ہوتی تھی ادھر کوئی اے سی ،ڈی سی وغیرہ جانے کا سوچتا بھی نہیںتھا۔اب بھی یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ٹاٹری اور غیر معیاری مصالحہ جات سے بنی اشیاء کی بھرمار ہر کہیںموجود ہے۔اندازہ لگائیں کہ پانچ دس روپے میں کیا چیز ہے جو معیاری ہو گی اور بچے کو صحت مند بنائے گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری لوگ اپنی ڈیوٹی کو سمجھیں اور قوم کے مستقبل کا سوچیں۔




