لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے ٹیکس چوری کے خاتمے اور بڑے پلازوں و کمرشل پراپرٹیز مالکان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ڈی جی ایکسائز نے کمرشل پراپرٹیز کی ری اسسمنٹ کا حکم دے دیا ہے۔ پنجاب بھر میں ساڑھے 7لاکھ کمرشل پراپرٹیز مالکان ٹیکس ادا کر رہے ہیں، تاہم سالانہ پراپرٹی ٹیکس کا صرف 40فیصد وصول ہوتا ہے۔ ایکسائز حکام کے مطابق ری اسسمنٹ کا مقصد ٹیکس چوری کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے اور ابتدائی طور پر بڑے شہروں میں اس عمل کا آغاز کیا جائے گا۔ خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر موجودہ ٹیکس اور جائیداد کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی۔پنجاب میں 25لاکھ سے زائد کمرشل اور نان کمرشل ٹیکس ایبل پراپرٹیز موجود ہیں۔ رواں سال کے پہلے ساڑھے 3ماہ میں لاہور سے 80ہزار نئی پراپرٹیز سسٹم میں شامل کی گئی ہیں جبکہ پنجاب بھر سے 80ہزار سے زائد نئی پراپرٹیز شامل کی گئیں۔ایکسائز حکام نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے بقایا جات کی وصولی اور ٹیکس چوری کروانے والے ملازمین کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اگلے ماہ سے کمرشل پراپرٹیز کی ری اسسمنٹ کے لیے ٹیمیں کام شروع کر دیں گی۔




