صفدر آباد کی بیوٹیفکیشن کے کام سست روی کا شکار

صفدرآباد(نامہ نگار)شہر میں بیوٹیفکیشن کا کا م جاری مگر رفتار چیونٹی کی،یہ کیا ماجرا ہے؟شنید ہے کہ صفدرآباد کو کروڑوں کی گرانٹ ملی ہے،اس رقم سے صفدرآباد کو خوبصورت بنایا جائے گا ۔تاہم عوام کا خیال ہے کہ بہت سی رقم گول مول کر لی جائے گی۔ڈیلی بزنس رپورٹ نے شہر کا ایک سروے کیا جس میں شہریوں نے دل کھول کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔عوام پوچھتے ہیں کہ شہر کی بیوٹیفکیشن پر اتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے ،کیا شہریوں کی رائے لی گئی،سوالات تو بہت سے ہیںبس سرکاری کرتا دھرتا افسران اس کا جواب شہریوں کو دے دیں۔ پندرہ دن ہو گئے اردو بازار میں دکانوں کے تھڑے مسمار کئے ہوئے،مگر کام کی رفتار چیونٹیوں کے رینگنے سے بھی کم کی ہے۔نکمے لوگ کام کر رہے ہیں،شہریوں کو عذاب میںدھکیل دیا گیا ہے۔ایک شہری نے بتایا کہ ہماری گلیوں کا پانی گلیوں کی نالیوںسے اوورفلو ہو رہا ہے،گٹرز ابل رہے ہین ،تعفن پھیل چکا لیکن افسران تو پرفیوم لگا کر بیٹھے ہیں۔کوئی افسر بازار میںنہیں دیکھا گیا،دو تین مزدور اور مستری نالے کی مرمت کرتے ہیں،دن جلد ہی گزر جاتا ہے ۔ٹھیکیدار کو کوئی پوچھنے والا نہیں،چیف افسر نے خود کو آئیسولیٹ کر لیامعلوم نہیںاب کہاں ہے،کوئی ایس ڈی او وغیرہ نظر نہیں آرہا۔ایک اور شہری نے کہا کہ انجمن تاجراں کا کیا کردار ہے؟افسران کی موجیںلگی ہوئی ہیںانہین تو ایسے شہری چاہیئں جو ان کی ہاں میںہاں نہ ملائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں