اسلام آباد(بیورو چیف)اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)کے مطابق واجب الادا آٹو لونز میں مسلسل گیارہویں ماہ بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ستمبر کے آخر میں 305ارب روپے سے بڑھ کر اکتوبر کے آخر تک 315 ارب40کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔ جون 2024میں پالیسی ریٹ 22فیصد سے کم ہو کر 11فیصد ہونے کے بعد آٹو فنانسنگ بتدریج اس ریکارڈ سطح کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے، جو جون 2023میں 368ارب روپے تھی۔ شرحِ سود میں استحکام رہا یا یہ مزید کم ہوئی تو آنے والے مہینوں میں آٹو لونز کی طلب زیادہ رہنے کا امکان ہے، ساتھ ہی چھوٹی گاڑیوں، خصوصا سوزوکی آلٹو 660سی سی اور درآمد شدہ سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب بھی اس رجحان کو تقویت دے سکتی ہے۔نئے داخل ہونیوالے ادارے اور موجودہ اسمبلرز نئے ماڈلز متعارف کرا رہے ہیں، جب کہ اسمبلرز اور بینکوں کی جانب سے پرکشش پیکجز (جن میں شرح سود 10فیصد سے بھی کم ہے۔




