پنشن اور تنخواہ ایک ساتھ لینے پر عائد پابندی ختم

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان میں پنشن اصلاحات سے متعلق بڑا حکومتی یوٹرن، پنشن اور تنخواہ ایک ساتھ لینے پر عائد پابندی ختم ، نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔نوٹیفکیشن کیمطابق ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت پر پنشن اور تنخواہ ایک ساتھ لینے کی اجازت دیدی گئی،پنشن کیسزمیں 22اپریل اور 19جون 2025کے آفس میمورنڈمز فوری طورپرختم کردیا گیا۔ وزارتِ خزانہ نے ری ایمپلائمنٹ پرپنشن سے متعلق سابقہ احکامات واپس لینے کا اعلان کیا ہے، نوٹیفکیشن کیمطابق ریٹائرڈ افسران کودوبارہ ملازمت پر مکمل مالی مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ڈبل بینیفٹ اسکیم بحال، دوبارہ تعینات ریٹائرڈ ملازمین تنخواہ اور پنشن بھی لیں گے۔ حکام کاکہنا ہے کہ سابقہ نوٹیفکیشن منسوخ، پرانا نظام دوبارہ نافذ کر دیا گیا، تجربہ کارسرکاری افسران کی کمی سے متعلق مشکلات کے باعث فیصلہ کیا گیا، ریٹائرڈ ملازمین کی دوبارہ تعیناتی سے متعلق نئی ہدایت بعد میں جاری کی جائیں گی۔ وزارت خزانہ کی دستاویز کیمطابق موجودہ مالی سال وفاقی حکومت کا پنشن بل 1055ارب روپے تک پہنچ گیا ہے،ملٹری پنشن 742ارب اورسویلین سرکاری ملازمین کی پنشن کا حجم 243 ارب روپے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں