شک کا فائدہ ملزم کا قانونی حق

اسلام آباد (بیورو چیف)سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم محمد صدیق کو بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ملزم کو شک کا فائدہ دینا رعایت نہیں اس کا قانونی حق ہے۔جمعہ کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ برآمدگی اور فارنزک شواہد براہِ راست قابل اعتماد شہادت کے بغیر موثر نہیں ہیں۔ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے شواہد کے غلط جائزے پر مبنی قرار دیئے عدالت نے استغاثہ کے مقدمے میں شکوک و شبہات، مبینہ عینی شاہدین کی مشکوک موجودگی، گواہوں کے بیانات میں تضادات اور غیر فطری پہلوں کی نشاندہی کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم میں غیر وضاحتی تاخیر نے استغاثہ کے موقف کو مزید کمزور کیا، جبکہ قتل کا محرک بھی ثابت نہ ہو سکا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ محض ایک معقول شک بھی ملزم کو فائدہ دینے کیلئے کافی ہے، شک کا فائدہ دینا رعایت نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں