موسمیاتی تبدیلیوں نے زراعت کے روایتی نظام کو متاثر کیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی شعبے کو درپیش مسائل، فصلوں کی پیداوار میں کمی اور غذائی تحفظ کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی مین لائبریری میں ”کلائمٹ اسمارٹ کاشتکاری کے جدید طریقے” کے موضو ع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کا اہتمام پاکستان سوسائٹی آف ایگرونومی نے ایگرونومک ریسرچ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد کے تعاون سے کیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف سائنٹسٹ ایگریکلچرل ریسرچ ڈاکٹر ساجد الرحمن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے زراعت کے روایتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث کاشتکاروں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں کلائمٹ اسمارٹ کاشتکاری کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند زمین نہ صرف فصلوں کی بہتر نشوونما کرتی ہے بلکہ فضا سے کاربن جذب کر کے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے متوازن کھادوں، پانی کے مثر انتظام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے قدرتی وسائل کے تحفظ پر زور دیا۔اس موقع پر پاکستان سوسائٹی آف ایگرونومی کے نو منتخب صدر ڈاکٹر نوید اختر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کلائمٹ اسمارٹ کاشتکاری کے فروغ اور زرعی تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک زرعی ماہرین کی فیلڈ لیول پر رہنمائی اور کسانوں کی عملی تربیت نہیں ہوگی، تب تک پائیدار زرعی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں