پاکستان فلاح پارٹی نے پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت مسترد کردی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان فلاح پارٹی نے پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمو لیت کومستردکردیاپاکستان فلاح پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سید آفتاب عظیم بخاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے نام پر نام نہاد ”بورڈ آف پیس” میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ”پاکستانی وزیر اعظم” کابیٹھنا ”قومی وملی” غیرت وحمیت کیلئے سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہم ”مظلوم فلسطینیوں” کے قاتلوں کیساتھ ہیں۔ حکومت کو پاکستان میں نام ”نہاد جمہوریت” کی بجائے بے لگام ”بادشاہت” کے نظام کا”اعلان” کر دینا چاہیے افسوس فلسطینی مسلمانوں کی آواز پرتوہم نے انکی کوئی ”عملی مدد” نا کی لیکن انکے قاتل کے سرپرست امریکی ”خوشنودی وٹرمپ” کے حکم سے ان سے ہاتھ ملانے میں کوئی دیر نا لگائی۔ غزہ امن بورڈ کو ایک ایگزیکٹو کمیٹی کنٹرول کریگی اس کمیٹی میں کوئی فلسطینی تو دور کی بات ایک بھی مسلمان شامل نہیں تو پھر یہ فورم فلسطینیوں کے حقوق کا خیال کیسے رکھے گا؟ حماس سے پوچھے بغیر اسرائیل کو بورڈ میں شامل کرنے کا کیا مطلب ہے؟ نتن یاہو 70 ،80 ہزار ”فلسطینیوں” کا قاتل ہے ،،جس کے پشت پر نیٹو اور امریکہ خود موجود تھا۔ اگر وہ اس قتل عام کے بعد کہیں گے کہ ہم ”امن” لائیں گے آپ تو افغانستان، عراق میں بھی امن لانے کے لیے آئے تھے؟ لیکن انہوں نے وہاں کھنڈرات بنا دیا.امریکی قول وفعل پرہماری ”آنکھیں” ناکھلنا ہماریآنکھوں اور عقل کے لئے بھی سوالیہ نشان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں