تپتا ہوا مئی اور مون سون کے سائے

پاکستان اس وقت ایک ایسی نازک اور کثیر الجہتی آزمائش کی دہلیز پر کھڑا ہے جہاں اسے ایک طرف معاشی و سیاسی عدم استحکام کی تپش کا سامنا ہے تو دوسری طرف قدرت کے بدلتے ہوئے تیور ایک نئے موسمیاتی المیے کی نوید سنا رہے ہیں۔ مئی 2026کا سورج طلوع ہوتے ہی تپش کی جو لہر محسوس کی جا رہی ہے، وہ محض ایک موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ اس موسمیاتی جبر کا تسلسل ہے جس نے حالیہ برسوں میں ہماری زراعت، معیشت اور انسانی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں جہاں ایک طرف عام آدمی بجلی کے بھاری بلوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ سے شدید ذہنی و معاشی اذیت کا شکار ہے، وہیں دوسری طرف قدرت نے بھی اپنے تیور سخت کر لیے ہیں۔ اس سال مئی کا مہینہ اپنی روایتی گرمی کے تمام ریکارڈ توڑنے کی جانب گامزن دکھائی دیتا ہے اور ماہرینِ موسمیات کے مطابق پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں، بالخصوص فیصل آباد، ملتان، سکھر اور نواب شاہ جیسے شہروں میں درجہ حرارت معمول سے 3سے 5ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے، جو پارہ 48ڈگری یا اس سے بھی اوپر لے جا سکتا ہے۔ یہ تپتی ہوئی”لو”اور شدید گرمی کی لہر (Heatwave)نہ صرف جسمانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے بلکہ یہ ہمارے پانی کے پہلے سے کم ہوتے ذخائر اور کھڑی فصلوں پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرے گی۔ ایسی صورتحال میں شہریوں کے لیے اب یہ لازم ہو گیا ہے کہ وہ محض سرکاری مشوروں کے انتظار میں نہ رہیں بلکہ عملی طور پر سخت احتیاطی تدابیر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں؛ پانی کا بے دریغ اور مسلسل استعمال، دوپہر کے اوقات میں بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، سر کو ڈھانپ کر رکھنا اور ہلکے رنگ کے سوتی لباس کا انتخاب اب محض فیشن یا انتخاب نہیں بلکہ اس تپتی ہوئی دھوپ میں بقا کی جنگ بن چکا ہے۔مگر اس تپتے ہوئے مئی کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہ تو اس وسیع تر موسمیاتی المیے کا دیباچہ ہے جو جون کے آخر میں مون سون کی دستک کیساتھ ایک نئی شکل اختیار کر لے گا۔ موسمیاتی ماڈلز اور ‘لا نینا’ کے اثرات اس سنگین حقیقت کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ رواں برس مون سون کی بارشیں معمول سے 25سے30فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں، جو 2022کے اس تباہ کن سیلاب کی تلخ یادیں تازہ کر رہی ہیں جس نے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈبو دیا تھا۔ جب شمال کے فلک بوس پہاڑوں پر جمی برف مئی اور جون کی اس شدید گرمی کی وجہ سے تیزی سے پگھل کر دریائے سندھ اور چناب میں اترے گی اور اوپر سے مون سون کی بے رحم طوفانی بارشیں برسیں گی، تو دریائی سیلاب اور بڑے شہروں میں”اربن فلڈنگ”کا خطرہ ایک ناگزیر حقیقت بن کر سامنے آئے گا۔ اس سال ”کلاڈ برسٹ”یا بادل پھٹنے جیسے واقعات کے امکانات بھی ماضی کی نسبت زیادہ ہیں، جو خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلابی ریلوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگرچہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے سمر کنٹین جنسی پلان 2026 کے تحت حفاظتی بندوں کی مرمت، نالوں کی صفائی اور ارلی وارننگ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے ہیں، لیکن ماضی کے تلخ تجربات شاہد ہیں کہ صرف سرکاری فائلوں میں دبے منصوبے اور اخباری بیانات قدرت کے بے پناہ قہر کو روکنے کے لیے کبھی کافی ثابت نہیں ہوئے۔ پاکستان کو اس وقت گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change)کے محاذ پر ایک ایسی مستقل جنگ کا سامنا ہے جس کے لیے ہم نے شاید اب تک وہ سنجیدہ تیاری نہیں کی جو ایک ایٹمی قوت اور زرعی ملک کا خاصہ ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مئی کی یہ جھلسا دینے والی گرمی اور جولائی کی یہ ممکنہ طوفانی بارشیں دراصل قدرت کا ایک ایسا انتباہ ہیں جسے نظر انداز کرنا اجتماعی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ہیٹ ویو سینٹرز کا قیام عمل میں لائے اور سیلاب سے بچا کے لیے ڈیموں کی مینجمنٹ اور نہری نظام کی صفائی کو محض کاغذی کارروائیوں تک محدود نہ رکھے۔ دوسری طرف، عوامی سطح پر بھی شجر کاری کی مہم کو ایک جہاد سمجھ کر اپنانا ہوگا کیونکہ درختوں کی کمی ہی وہ بنیادی وجہ ہے جو ہمارے شہروں کو ”کنکریٹ کے تپتے ہوئے تندوروں” میں تبدیل کر رہی ہے۔ اگر ہم نے آج انفرادی سطح پر اپنی طرزِ زندگی کو نہ بدلا اور حکومتی سطح پر دور اندیشی اور شفافیت کا مظاہرہ نہ کیا، تو قدرت کے یہ بدلتے ہوئے تیور ہماری معیشت، زراعت اور سب سے بڑھ کر قیمتی انسانی جانوں کے لیے ایک ایسا ناقابلِ تلافی نقصان ثابت ہوں گے جس کا ازالہ شاید دہائیوں تک ممکن نہ ہو پائے۔ یہ وقت غفلت کا نہیں بلکہ بیداری اور عمل کا ہے، کیونکہ قدرت ہمیں بار بار سنبھلنے کا موقع نہیں دیتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں