فیصل آباد،کراچی کے بعد دوسرابڑا ریونیو دینے والا شہر ہے،صدر چیمبر آف کامرس فاروق یوسف شیخ

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں۔ وطن عزیز کی جامع اور پائیدار ترقی اُن کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے نمل یونیورسٹی میانوالی کے بی بی اے کے چوتھے سمسٹر کے طلبہ کے دورہ فیصل آباد کے دوران اُن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل فیصل آباد کی شناخت ہے ۔ ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں فیصل آباد کا حصہ 57فیصد ہے تاہم اب یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری سے مختلف قسم کی نئی جدید اور ہائی ٹیک صنعتیں قائم کی گئی ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ فیصل آباد کراچی کے بعد دوسرا بڑا ریونیو دینے والا شہر ہے۔ اس حوالے سے بزنس کمیونٹی کو معیشت کے اہم ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نجی شعبہ سماجی شعبہ میں بھی بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔ صحت اور تعلیم کے علاوہ فیصل آباد چیمبر نے گزشتہ سیلاب کے دوران متاثرین میں راشن کی تقسیم سے لیکر اُن کی بحالی تک کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر کا صدر مختلف سرکاری اداروں کے بورڈ کا ممبر ہوتا ہے اور اِن محکموں میں بہتری کیلئے قابل عمل تجاویز دی جاتی ہیںجس سے حکومت کو پالیسی سازی میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیمبر حکومت اور بزنس کمیونٹی کے درمیان رابطوں کو مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کی برآمدات کو بھی بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے غیر ملکی جارحیت کے خلاف مؤثر جواب دینے پر پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وزیر اعظم اور مسلح افواج نے حالیہ ایران امریکہ جنگ کو ختم کرانے کیلئے مصالحتی عمل بھی شروع کیا جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے نوجوان نسل کو آگے بڑھنا ہوگا۔ صدر چیمبر نے طلبہ کے سوالوں کے جواب بھی دیے اور کہا کہ وومن انٹر پرینوئرشپ کیلئے خواتین کا الگ چیمبر قائم ہے جبکہ وومن ایمپاورمنٹ کیلئے بھی ضروری سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ”میڈ اِن فیصل آباد ” میں خواتین کو سستے نرخوں پر سٹال الاٹ کئے گئے ۔ انہوں نے نمل کے طلبہ کے معیار کو سراہا اور کہا کہ وہ معیشت کے بارے میں بھی پوری آگاہی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پورے ریجن میں مہنگا ملک ہے تاہم امید ہے کہ نوجوان آر اینڈ ڈی کر کے نئی اختراعات متعارف کرائیں گے جس سے کاروباری آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے ہمیں 2030ء تک مختلف بین الاقوامی قوانین کی پابندیاں کرنا ہوں گی جبکہ فیصل آباد کو ٹیکسٹائل کا پہلا سرکلر اکانومی شہر بنایا جا رہا ہے۔ صدر چیمبر نے سیاسی عدم استحکام بارے سوال کے جواب میں بتایا کہ ایسی صورتحال میں غیر ملکی سرمایہ کار تو کیا مقامی لوگ بھی سرمایہ کاری سے اجتناب کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کی طرف سے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کیلئے چاروں وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لینے پر اطمینان کا اظہار کیا مگر کہا کہ اسی طرح برآمدات بڑھانے کیلئے بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کو لوپ میں لینا چاہیے۔ انہوںنے 10سالہ معاشی پالیسی بنانے پر بھی زور دیا تاکہ سرمایہ کار پوری دلجمعی سے کام کر سکیں۔ اِس سے قبل نمل یونیورسٹی میانوالی کے ہیڈ آف بزنس سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد نے ملکی معیشت میں فیصل آباد کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ آخر میں صدر فاروق یوسف شیخ نے ڈاکٹرمحمد احمد کو چیمبر کی خصوصی شیلڈ دی۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ ، نائب صدر انجینئر عاصم منیر، ایگزیکٹو ممبر ان جواد شفیق، مرزا زاہد اقبال اور شاہد مجید کے علاوہ نمل یونیورسٹی میانوالی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف اور ایسوسی ایٹ پروفیسر حافظ اظہر رسول بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں