سرکاری سکولوں میں مفت فراہم کی جانیوالی کتابیں دکانوں پر فروخت ہونے لگیں

ٹھیکریوالہ(نامہ نگار) مارکیٹ میں سرکاری سکولوں کی مفت فراہم کی جانے والی کتابوں کی کھلے عام فروخت کا انکشاف، ذمہ دار افسران کی پراسرار خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔تفصیلات کے مطابق حکومتِ پنجاب کی جانب سے سرکاری سکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو تعلیمی سال کے آغاز پر مفت درسی کتب فراہم کی جاتی ہیں، جن پر واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ “یہ کتابیں فروخت کے لیے نہیں ہیں”۔ اس کے باوجود مارکیٹس میں یہی سرکاری کتابیں دکانوں پر فروخت ہو رہی ہیںاس صورتحال سے یہ شبہ مضبوط ہو رہا ہے کہ سرکاری سکولوں میں طلبہ کی اصل تعداد سے زائد کتابیں وصول کی جاتی ہیں، جنہیں بعد ازاں دکانداروں سے مبینہ گٹھ جوڑ کے تحت فروخت کر دیا جاتا ہے، یا پھر طلبہ کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ یہی سرکاری کتابیں بازار سے خریدیں۔تشویشناک امر یہ ہے کہ اس سنگین بدعنوانی پر محکمہ تعلیم کے ذمہ دار افسران نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور آج تک نہ تو کسی دکاندار سے پوچھ گچھ کی گئی اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ طلبہ کو کتابیں خریدتے وقت باضابطہ بل فراہم نہیں کیا جاتا، بلکہ سادہ کاغذ پر صرف ٹوٹل رقم لکھ کر تھما دی جاتی ہے، جس میں نہ تو کتابوں کی الگ الگ قیمت درج ہوتی ہے اور نہ ہی دکان کا نام یا رجسٹریشن نمبر موجود ہوتا ہے، جو کہ واضح طور پر قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔اور سرکاری تعلیمی وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں