بچوں میں کمزوری اور ماں کی غذائی لاعلمی

پاکستان میں بچوں کی کمزوری ایک ایسا مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس پر ہم اکثر تب توجہ دیتے ہیں جب بچہ شدید بیمار ہو جائے، وزن نہ بڑھے یا ڈاکٹر کسی وٹامن کی کمی بتا دے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی کمزوری صرف غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ غذائیت سے متعلق لاعلمی بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سی مائیں یہ سمجھتی ہیں کہ بچے کا پیٹ بھر جانا ہی اچھی غذا کی علا مت ہے۔ اگر بچہ دن میں کئی بار بسکٹ، چپس، میٹھے مشروبات یا بازار کی چیزیں کھا لے تو والدین مطمئن ہو جاتے ہیں کہ بچہ بھوکا نہیں۔ حالانکہ پیٹ بھرنے اور جسم کو غذائیت ملنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔
پاکستان میں ہزاروں بچے ایسے ہیں جن کے پیٹ تو بھرے ہوتے ہیں مگر ان کے جسم میں آئرن، کیلشیم، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزا کی شدید کمی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بچے کم عمری میں ہی کمزور، سست، چڑچڑے اور پڑھائی میں غیر متوجہ نظر آتے ہیں۔
بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے بھی ماں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ کوئی کہتا ہے بچے کو صرف دیسی گھی کھلائیں، کوئی ہر مسئلے کا حل سپلیمنٹس میں ڈھونڈتا ہے، جبکہ کچھ لوگ بازار کے مہنگے ہیلتھی اسنیکس کو بہترین غذا سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل اور متوازن غذا پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی مائیں بچوں کو سبزیاں، دالیں، انڈے یا پھل کھلانے کی جگہ فوری طور پر تیار ہونے والی چیزوں پر انحصار کرنے لگی ہیں کیونکہ مصروف زندگی میں یہ آسان راستہ محسوس ہوتا ہے۔ مگر یہی سہولت آہستہ آہستہ بچوں کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
بچوں کی غذائیت صرف ماں کی ذمہ داری بھی نہیں ہونی چاہیے۔ گھر کے تمام افراد کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صحت مند بچہ ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر بچپن میں جسم کو صحیح غذا نہ ملے تو اس کے اثرات پوری زندگی رہ سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ماں کو ڈرانے کے بجائے انہیں درست معلومات دی جائیں۔ سکولوں، ہسپتالوں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر آسان زبان میں غذائیت سے متعلق آگاہی دی جائے۔ کیونکہ ایک باشعور ماں نہ صرف اپنے بچے بلکہ آنے والی نسل کی صحت بہتر بنا سکتی ہے۔
بچے صرف کھانے سے نہیں بلکہ صحیح غذائیت سے مضبوط بنتے ہیں، اور یہی فرق ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں