فیصل آبا د( سٹاف رپورٹر) اب سولر صارفین اپنی محنت اور سرما ئے سے پیدا کی گئی بجلی سستے داموں فرو خت کرنے پر مجبور ہوں گے جبکہ اپنی ہی ضرورت کی بجلی مہنگے ٹیرف پر خرید یں گے۔ یہ IMFکے غلام حکمرانو ںکی معاشی دہشت گردی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ان خیالات کااظہارانجمن آڑتھیاں غلہ منڈی کے معروف تاجر صدر غلہ منڈی میاں آصف اسلم نے نیٹ میٹرنگ کے خاتمہ کو عوام دشمن فیصلہ قراردیتے ہوئے کہاہے حکومت نے ایک بار پھر عوام کو دھوکا دیا ہے۔ یہ حکومتی فیصلہ آئی پی پیز مافیا کو بچانے اور عام شہریوں سے سستی بجلی کا حق چھیننے کی کھلی سازش ہے۔۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی ناکام توانائی پالیسیوں، بدانتظامی اور بدعنوان معاہدوں کا بوجھ مسلسل عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ لائن لاسز کم کرنے، بجلی چوری روکنے اور غیر منصفانہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کرنے کے بجائے ان عوام کو نشانہ بنایاجارہاہے جنہوں نے اپنے وسائل سے ملک کے توانائی بحران میں کمی لانے کی کوشش کی۔ ا نہوںنے کہاکہ سولر صارفین کو سزا دینا دراصل صاف اور سستی توانائی کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنا ہے۔یہ فیصلہ نہ صرف ماحولیاتی اہداف کے خلاف ہے بلکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی تباہ کر دے گا۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے بلوں کے ہاتھوں پریشان ہیں، اب ان سے خود پیدا کی گئی بجلی کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔حکومت اور نیپرا کے اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے فوری طور پر واپس لیا جائے ۔ عوام کے ساتھ یہ ناانصافی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔




