بھارتی آبی جارحیت خاموشی مسئلے کا حل نہیں

کوئٹہ(نامہ نگار)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا مسئلہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے بھارت پاکستان کے خلاف دریاؤں کے بہاؤ کو بطور دباؤ استعمال کررہا ہے زرعی سیزن میں پاکستان کے حصے کا پانی روک کر پاکستانی زراعت کو بنجر بنانے کی کوشش اور ضرورت نہ ہونے پر پانی کے اچانک اخراج سے شدید سیلابی کیفیت پیدا کرنا بھارت کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کی پالیسی ہے پاکستان کی معیشت کا 19 فیصد حصہ زراعت سے جڑا ہے اور آبادی کی بڑی تعداد اسی شعبے پر انحصار کرتی ہے ایسے میں آبی عدم توازن براہِ راست غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کو بری طرح سے متاثر کر رہا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان 1960ء میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس میں ورلڈ بینک بطور ضامن شامل ہے تاہم حالیہ برسوں میں ڈیموں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں پر اختلافات بڑھتے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں